انوارالعلوم (جلد 10) — Page 464
۴۶۴ اس دلیل کا کیا مفہوم ہے اور مجھے ڈر ہے کہ خود نہرو کمیٹی بھی اس کا مطلب نہیں سمجھتی تھی- کیونکہ مسلمانوں کو زائد حق دینے کی وجہ سے دوسری اقلیتوں کے حقوق کو کسی طرح نقصان نہیں پہنچ سکتا- اول تو مسلمانوں کے سوا اور کوئی اقلیت ایسی ہے ہی نہیں جسے مستقل اقلیت کہا جا سکے- بدھ لوگ اس وقت ہندوستان میں ہندوؤں کی ایک شاخ بن رہے ہیں- انہیں وہ خطرات ہی نہیں جو مسلمانوں کو ہیں- قومی سوالات کے موقع پر وہ ہمیشہ ہندوؤں کے ساتھ ہوتے ہیں- سکھوں کا بھی یہی حال ہے- باقی رہے مسیحی، وہ صرف ایک فی صدی ہیں- اور اکثر ہندوؤں سے نکل کر مسیحی ہوئے ہیں- اور کوئی ماضی نہیں رکھتے جس کے ساتھ انہیں وابستگی ہو- کوئی چیز ان کے پاس ایسی نہیں جس کے کھوئے جانے کا خطرہ ہو- پس ان کو خوف کوئی نہیں ہو سکتا- اور مسلمانوں کا یہ مطالبہ بھی نہیں کہ مسیحیوں کا حق نیابت کم کر کے انہیں دیا جائے- ان کا مطالبہ تو یہ ہے کہ اکثریت کے پاس اس قدر گنجائش ہے کہ اس کا حق نیابت کم کر کے مسلمانوں کے حقوق کو محفوظ کیا جا سکتا ہے- اور باوجود اس کے اکثریت کی اکثریت میں فرق نہیں آتا- پس دوسری اقلیتوں کے حقوق کو کم کرنے کا اس جگہ کوئی سوال ہی نہیں کہ انہیں نقصان کا اندیشہ ہو- کیوں نشستیں مخصوص نہ کی جائیں؟ تیسری دلیل نہرو کمیٹی کی یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کیلئے نشستیں مخصوص کر دی جائیں تو ان کی تقسیم کس طرح ہوگی اس طرح تو پنجاب اور بنگال میں بھی مسلمانوں کے لئے حق نیابت محفوظ کر دینا ہوگا لیکن یہ بھی کوئی دلیل نہیں- کیونکہ یہ امر تو مسلمانوں کے مطالبات میں شامل ہے کہ پنجاب اور بنگال میں بھی مسلمانوں کی نیابت کا حق محفوظ ہونا چاہئے اور میں ثابت کر چکا ہوں کہ یہی طریق درست اور انصاف کے مطابق ہے پس دلیل کی بنیاد ایک ایسا امر پر رکھنا جو خود مابہ النزاع ہے- عقل کے خلاف ہے اور اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کے لئے نشستوں کی حفاظت نہ کی جائے گی تب بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا- کیونکہ مجلس نیابت کے نمائندوں کے انتخاب کے وقت ہندوستان کو مجموعی حیثیت میں دیکھنا ہوگا- اور ہندوستان کی مجموعی آبادی کو مدنظر رکھ کر مسلمان اقلیت ہیں، بلکہ کمزور اقلیت- پس اگر بفرض محال صوبوں میں نشستیں محفوظ نہ بھی ہوں تب بھی مرکزی مجلس کیلئے نشستوں کی حفاظت کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے- انہیں محفوظ کیا جا سکتا ہے-