انوارالعلوم (جلد 10) — Page 462
۴۶۲ قانونِ اساسی چھیاسٹھ )۶۶) فیصدی ممبر بدل سکتے ہیں پس مسلمانوں کا حکومت میں دخل قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے- کہ تینتیس (۳۳) فیصدی نہیں بلکہ چونتیس (۳۴) فیصدی ممبریاں دونوں مرکزی پارلیمنٹوں میں مسلمانوں کو دی جائیں- ہندؤوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ اس سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا- وہ پھر بھی اکثریت رہتے ہیں- مسلمان حکومت کے لئے حق نہیں مانگتے- وہ صرف اس قدر مانگتے ہیں کہ جس حق کی موجودگی میں ان کا اپنا حق نہ مارا جائے- ورنہ حکومت کرنے کے لحاظ سے چونتیس (۳۴) فیصدی اقلیت بھی ویسی ہی بیکار ہے جیسے کہ پچیس (۲۵) فیصدی- ہندو صاحبان کا یہ کہنا کہ اقلیت کا کیا حق ہے کہ وہ اپنی تعداد سے زائد حق مانگے- نیابتی حکومت میں بہر حال اکثریت حکومت کرتی ہے، ہرگز درست نہیں- کیونکہ نیابتی اور انتخابی حکومتوں کا دارومدار فردی آزادی کے حق پر ہے- اگر فردی آزادی کا اصل درست نہیں تو نیابتی اور انتخابی حکومت بھی ایک بے معنے شے ہے- اور اگر فردی آزادی کا حق درست ہے تو آٹھ کروڑ مسلمان جائز طور پر کہہ سکتے ہیں کہ انتخابی اور نیابتی حکومت کا قیام فردی آزادی کے قیام کے لئے ہوتا ہے- پس ہم کس طرح اس طریق حکومت پر راضی ہو سکتے ہیں کہ جو ایک چوتھائی آبادی کے حقوق کو بغیر حفاظت کے چھوڑ دیتا ہے- ہم اپنے لئے اکثریت کے طالب نہیں- مگر کیا ہم اس قدر حق کے طلب کرنے میں بھی حق بجانب نہیں جو اس حق کی حفاظت کرتا ہو جس کے قائم رکھنے کے لئے ہی انتخابی اور نیابتی حکومت قائم کی جاتی ہے- اور جس کی خاطر فرد اپنی آزادی کو محدود کرتا ہے- اگر اکثریت کو اپنی غیر مبدل کثرت کے سبب سے حکومت کا حق حاصل ہے تو پھر انتخابی اور جبری حکومت میں فرق کیا ہے- یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بے شک اکثریت کے لئے حکومت کا حق تسلیم کیا گیا ہے- مگر اس سے مراد سیاسی اکثریت ہوتی ہے- جو حالات کے ماتحت بدلتی رہتی ہے، نہ کہ ایسی اکثریت جو دائمی ہو- اور جس کے بعض فیصلے مذہبی تعصب سے متاثر ہو سکتے ہوں- جب یہ خطرہ ہو کہ کسی اکثریت کے فیصلے بیرونی اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں اور وہ اکثریت نہ بدلنے والی ہو تو اس وقت اس قوم کی حفاظت کا ذریعہ پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے جس پر اکثریت کے متعصبانہ فیصلوں کا اثر ممکن ہو- اقلیت کو زائد حق نیابت کب دینا ضروری ہے شاید کوئی شخص یہ کہے کہ تب تو پھر ہر حکومت میں ہر مذہبی اقلیت کو