انوارالعلوم (جلد 10) — Page 173
۱۷۳ بھی ضرورت ہوتی ہے- پس انہی معجزات کو تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ (۱) جن کا ذکر الہامی کتاب میں ہو- یا یہ کہ ان کی تائید میں زبردست تاریخی ثبوت ہ(۲) دوسرے جو سنت اللہ کے خلاف نہ ہو خواہ بظاہر اچنبھا نظر آئے- مثلاً خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ کوئی مردہ اس دنیا میں زندہ نہیں ہو سکتا- اگر کوئی کہے کہ فلاں نبی یا ولی نے مردہ زندہ کیا ہے تو چونکہ یہ قرآن کے خلاف ہوگا، ہم اسے ہر گز تسلیم نہیں کریں گے- کیونکہ معجزہ دکھانے والی ہستی نے خود فرما دیا ہے کہ وہ مردہ زندہ نہیں کرے گی- یہ عجیب بات ہے کہ مسلمان نہ صرف حضرت عیسیٰ کو بلکہ اور لوگوں کو بھی مردے زندہ کرنے والے قرار دیتے ہیں- ہندو ان سے بھی بڑھ گئے ہیں- مسلمانوں میں تو ایسی روایات ہیں کہ کوئی بزرگ تھے جن کے سامنے پکا ہوا مرغ لایا گیا- انہوں نے مزے سے اس کا گوشت کھایا اور پھر اس کی ہڈیاں جمع کر کے ہاتھ میں پکڑ کر دبائیں اور وہ کڑ کڑ کرتا ہوا مرغ بن گیا- مگر ہندو ان سے بھی عجیب و غریب باتیں بیان کرتے- مثلاً کہتے ہیں کہ ان کے کوئی رشی تھے جو کہیں جا رہے تھے کہ انہوں نے ایک خوبصورت عورت دیکھ کر اسے پھسلانا چاہا، مگر وہ راغب نہ ہوئی کیونکہ بدبخت تھی- اس وقت اس رشی کو یونہی انزال ہو گیا اور انہوں نے دھوتی اتار کر پھینک دی- تھوڑی دیر کے بعد اس دھوتی سے بچہ پیدا ہو گیا کیونکہ رشی کا نطفہ ضائع نہیں جا سکتا تھا- اسی طرح نیل کنٹھ کے متعلق جو ایک چھوٹا سا پرندہ ہے کہتے ہیں اس نے ایک دریا کا سارا پانی پی لیا- ایک برات جا رہی تھی اسے کھا گیا اور ابھی اس کا پیٹ نہیں بھرا تھا- اب مسلمان ایسے معجزات کہاں سے لائیں گے اس لئے اسی میں ان کی بہتری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے معجزوں کے متعلق جو شرط قرار دی ہے اسے مان لیں- ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنے معجزات لوگوں سے منوائیں اور دوسروں کے معجزات سے انکار کریں- (۳) تیسری شرط آپ نے یہ بتائی کہ معجزہ میں ایک رنگ کا اخفاء ضروری ہے اگر اخفاء نہ رہے تو معجزہ کی اصل غرض جو ایمان کا پیدا کرنا ہے ضائع ہو جاتی ہے- مثلاً اگر عزرائیل آئے اور کہے کہ فلاں نبی کو مان لو ورنہ ابھی جان نکالتا ہوں تو فوراً تمام لوگ مان لیں گے اور ایسے ایمان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا- پس معجزہ کیلئے اخفاء ضروری ہے- کیونکہ معجزہ ایمان کیلئے ہوتا ہے اگر اس میں اخفاء نہ رہے تو اس پر ایمان لانا کیا فائدہ دے سکتا ہے- ہاں اس قدر مخفی بھی نہ