انوارالعلوم (جلد 10) — Page 172
۱۷۲ اللہ تعالیٰ بھی ہر زمانہ کے مطابق نئے بندے پیدا کرتا ہے- پھر اگر اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو سنبھال کر زندہ رکھنا ہوتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے انسان کو زندہ رکھتا مگر آپﷺ تو فوت ہو گئے- کیا دنیا میں کوئی انسان ایسا ہے جو عمدہ دوا کو تو پھینک دے اور ادنیٰ دوا کو سنبھال کر رکھ چھوڑے اور پھر خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر حضرت عیسیٰ کو کیوں زندہ رکھا- آپ نے یہ بھی بتایا کہ حضرت عیسیٰ کو زندہ رکھنے اور امت محمدیہﷺ کی اصلاح کے لئے بھیجنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو سب سے بڑے معلم تھے اور آپﷺ کا کام اعلیٰ درجہ کے شاگرد پیدا کرنا تھا- مگر کہا یہ جاتا ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ امت محمدیہ میں فتنہ پیدا ہوگا، اس وقت محمدصلی اللہ علیہ وسلم تو کوئی ایسا شاگرد نہ پیدا کر سکیں گے جو اس فتنہ کو دور کر سکے مگر حضرت عیسیٰؑ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے تھے، اس کام کے لئے لائے جائیں گے- نیز اس عقیدہ میں امت محمدیہ کی بھی ہتک ہے- کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب سے نازک موقع پر خطرناک طور پر ناقابل ثابت ہوگی- حتی کہ دجال تو اس میں پیدا ہوں گے مگر مسیح دوسری امت سے آئے گا- آپ نے یہ بھی بتایا کہ حضرت مسیح جن کی عزت کے لئے یہ عقیدہ بنایا گیا ہے اس میں ان کی بھی درحقیقت ہتک ہے کیونکہ وہ مستقل نبی تھے- اگر وہ دوبارہ آئیں گے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ اس نبوت سے علیحدہ کر دیئے جائیں گے اور انہیں امتی بننا پڑے گا- معجزات کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ ساتواں کام حضرت مسیح موعودعلیہالصلوۃ والسلام نے یہ کیا کہ معجزات کے متعلق جو غلطفہمیاں تھیں، ان کی اصلاح کی- دنیا معجزات کے متعلق دو گروہوں میں تقسیم تھی- بعض لوگ معجزات کے کلی طور پر منکر تھے- اور بعض ہر رطب و یابس قصہ کو صحیح تسلیم کر رہے تھے جو لوگ معجزات کے منکر تھے- انہیں آپ نے علاوہ دلائل کے اپنے معجزات کو پیش کر کے ساکت کیا اور دعویٰ کیا کہ ؎ کرامت گرچہ بے نام و نشان است بیا بنگر ز غلمان محمد جو لوگ ہر رطب و یابس حکایت کو معجزہ قرار دے رہے تھے انہیں آپ نے بتایا کہ معجزہ تو ایک غیر معمولی کیفیت کا نام ہے اور غیر معمولی امور کے تسلیم کرنے کیلئے غیر معمولی ثبوت کی