انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 174

۱۷۴ ہونا چاہئے کہ دلیل کے درجہ سے ہی ساقط ہو جائے، ورنہ پھر لوگوں کے لئے حجت نہ رہے گا- (۴) چوتھی شرط یہ ہے کہ معجزہ میں کوئی فائدہ مدنظر ہو کیونکہ معجزہ لغو نہیں ہوتا اور تماشہ کی طرح نہیں دکھایا جاتا بلکہ اس کی کوئی نہ کوئی غایت اور غرض ہوتی ہے- پس جو معجزہ کسی مقصد اور فائدہ پر مشتمل ہو اسی کو تسلیم کیا جا سکتا ہے ورنہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا- شریعت کی عظمت کا قیام آٹھواں کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کیا کہ شریعت کی عظمت قائم کی- شریعت کی عظمت غیر مسلموں میں بھی اور مسلمانوں میں بھی بالکل مٹی ہوئی تھی- آپ کے ذریعہ سے وہ پھر قائم ہوئی- (۱) سب سے بڑا وسوسہ شریعت کے متعلق یہ پیدا ہوگیا تھا کہ لوگ شریعت کو چٹی سمجھتے تھے- عیسائی کہتے تھے یسوع مسیح انسانوں کو شریعت سے بچانے کے لئے آیا تھا- گویا شریعت چٹی تھی جس سے وہ بچانے آئے تھے- حالانکہ شریعت تو راہنمائی کے لئے تھی اور کوئی شخص راہنمائی کو چٹی نہیں کہتا- کیا اگر کوئی کسی کو سیدھا راستہ بتائے تو وہ یہ کہا کرتا ہے کہ ہائے اس نے مجھ پر چٹی ڈال دی- مسلمان بھی شریعت کو چٹی سمجھتے تھے کیونکہ انہوں نے اس قسم کی کوششیں کی ہیں کہ شریعت کے فلاں حکم سے بچنے کیلئے کیا حیلہ ہے اور فلاں کیلئے کیا- حتی کہ بعض لوگوں نے کتابالحیل لکھ دی ہے- اگر وہ شریعت کو لعنت نہ سمجھتے تو اس سے بچنے کے لئے حیلے کیوں تلاش کرتے- وہابی کسی قدر اس سے بچے ہوئے تھے مگر دوسرے مسلمانوں نے عجیب عجیب حیلے تراشے ہوئے تھے- مثلاً ایک مشہور فقہ کی کتاب میں لکھا ہے کہ قربانی کرنا عید کی نماز کے بعد سنت ہے لیکن اگر کسی کو نماز سے پہلے قربانی کرنے کی ضرورت ہو تو وہ یوں کرے کہ شہر کے پاس کے کسی گاؤں میں جا کر بکرا ذبح کر دے- کیونکہ عید شہر میں ہو سکتی ہے اور اس جگہ کے لئے عید کے بعد قربانی کی شرط ہے، اور وہاں سے گوشت شہر میں لے آئے- غرض پچھلے زمانہ میں مولویوں کا کام ہی یہ رہ گیا تھا کہ لوگوں کو حیلے بتائیں- اور لوگ بھی ان سے حیلے ہی دریافت کرتے رہتے تھے- مشہور ہے کہ کچھ لڑکوں نے مردہ گدھے کا گوشت کھا لیا- اس پر مولوی صاحب نے کہا- یہ بہت بڑا گناہ ہوا ہے- لڑکوں کے والدین کو چاہئے کہ ایک شہتیر کھڑا کر کے اسے روٹیوں سے ڈھانپیں اور وہ روٹیاں خیرات کر دی جائیں- کسی نے کہہ دیا- مولوی صاحب آپ کا لڑکا بھی ان میں شامل تھا- اس پر کہنے لگے کہ