انوارالعلوم (جلد 10) — Page 142
۱۴۲ ماننا کیا مشکل ہے کہ وہ بغیر زبان کے بولنے کی بھی قدرت رکھتا ہے- ایک جواب آپ نے یہ بھی دیا کہ بغیر الہام کے جو پرشوکت الفاظ میں ہو، اس بات کا یقین نہیں آ سکتا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کو کوئی حکم دیا گیا ہے- جب باہر سے آئے تب ہی پتہ لگ سکتا ہے کہ کسی اور طاقت نے یہ الفاظ بھیجے ہیں- (۴)چوتھی غلطی بعض لوگوں کو الہام کے متعلق یہ لگی ہوئی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ الہام کیفیت دماغی کا نتیجہ ہوتا ہے- اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا- بیشک ایسا بھی ہوتا ہے مگر یہ کہنا کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے اور کبھی باہر سے الہام نہیں ہوتا- غلط ہے- کیونکہ نبیوں اور مومنوں کے بعض الہام ایسے علوم پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں انسانی دماغ دریافت نہیں کر سکتا- مثلاً ان میں آئندہ زمانہ کے متعلق بڑی بڑی خبریں ہوتی ہیں- دوسرا جواب اس کا آپ نے یہ دیا کہ اگر کیفیت دماغی سے یہ مراد ہے کہ الہام بگڑے ہوئے دماغ کا نتیجہ ہوتا ہے- تو پھر کیا وجہ ہے کہ الہام پانے والے لوگ بہترین دماغ رکھتے ہیں ان کے دماغوں کا بہترین ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ الہام بگڑے ہوئے دماغ کا نتیجہ نہیں ہوتا- مجھے تعجب ہے کہ جو لوگ الہام کو دماغی بگاڑ کا نتیجہ سمجھتے ہیں وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ انسانی دماغ بڑھاپے میں کمزور ہو جاتا ہے- لیکن نبیوں پر بڑھاپے کا کبھی کوئی اثر نہیں ہوا- بلکہ ان کے الہامات میں زیادہ شوکت پیدا ہوتی جاتی ہے- (۵) پانچواں شبہ الہام کے متعلق یہ کیا جاتا ہے کہ الہام کا وجود انسان کی ذہنی اور عقلیترقی کے مخالف ہے- کیونکہ جب الہام سے ایک امر دریافت ہو گیا تو پھر لوگوں کو سوچنے اور غور کرنے کی کیا ضرورت ہے اور کیا موقع ہے؟ اس غلطی کو آپ نے لوگوں کی توجہ اس امر کی طرف پھیر کر دور کیا کہ الہام ذہنی ترقی کے مخالف نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے اسے ذہنی ترقی کی خاطر پیدا کیا ہے- کارخانہ عالم کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانی اور جسمانی دو سلسلے اس دنیا میں متوازی اور مشابہ چل رہے ہیں- جسمانی سلسلہ میں انسانی ہدایت اور راہنمائی کے لئے عقل کے ساتھ تجربہ کو لگایا گیا ہے تا کہ عقل کی کمزوری کو پورا کر دے اور انسان غلطی کے احتمال سے بچ جائے- روحانی سلسلہ میں اس کی جگہ الہام کو عقل کے ساتھ لگایا گیا ہے تا کہ عقل غلطی کر کے انسان کو تباہی کے گڑھے میں نہ گرا دے- خالی عقل جب جسمانی امور میں کافی نہیں ہو سکتی اور تجربہ کی