انوارالعلوم (جلد 10) — Page 141
۱۴۱ دل کی روشنی کا نام ہی الہام ہے- آپ نے ان لوگوں کے خیال کی بھی اصلاح فرمائی- نیچریوں، بہائیوں اور اکثر عیسائیوں کا یہی خیال ہے- مسلمان تعلیم یافتہ بھی کثرت سے اسی وہم میں مبتلا ہیں- آپ نے ایسے لوگوں کے سامنے اول اپنا مشاہدہ پیش کیا- اور فرمایا- میں الہام کے الفاظ سنتا ہوں اس لئے میں اس خیال کی تردید کرتا ہوں کہ الہام الفاظ میں نہیں ہوتا- دوسرا جواب آپ نے یہ دیا کہ الہام اور خواب انسانی فطرت میں داخل ہے- ہر انسان میں یہ خواہش ہے کہ خدا سے ملے- اور اس فطرت کی خواہش کا جواب بھی ضرور ہونا چاہئے- خالی دل کا خیال اس جوش محبت کا جواب نہیں ہو سکتا جو انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی ملاقات کے متعلق رکھا گیا ہے- اس کا جواب صرف الہام اور خواب ہی ہو سکتے ہیں- اسی طرح آپ نے فرمایا کہ خواب اور الہام صرف نبیوں سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ دنیا کے اکثر افراد اس سے کم و بیش حصہ پاتے ہیں- حتی کہ جو بدکار سے بدکار وجود ہیں اور جن کا پیشہ ہی بدکاری ہوتا ہے وہ بھی اس سے کبھی حصہ پا لیتے ہیں- پس اس چیز کا انکار کس طرح ہو سکتا ہے جس پر اکثر انسان شاہد ہیں اور جو چیز تھوڑی یا بہت دنیا کے اکثر افراد کو مل جاتی ہے اس کی نسبت کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ باقی دنیا کو تو اس میں حصہ ملتا ہے مگر نبیوں کو ہی اس سے حصہ نہیں مل سکتا- حالانکہ اس چیز کی پیدائش کی غرض ہی نبوت کی تکمیل ہے جب لاکھوں کافر بھی گواہی دیتے ہیں کہ ان کو الہام ہوتے ہیں یا خوابیں آتی ہیں تو الہام یا خواب کا ہونا ناممکن نہ ہوا- اور جب ناممکن نہ ہوا تو نبیوں کے متعلق یہ کہنا کہ ان کو الہام نہیں ہوتا بلکہ دل کے خیالات کا نام وہ الہام رکھ لیتے تھے حد درجہ کی نادانی ہے- پھر آپ نے فرمایا کہ الہام ایسی زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جو ملہم نہیں جانتا- اگر الہام محض خیال ہی ہوتا تو اسی زبان میں ہوتا جسے ملہم جانتا ہے، اس زبان میں نہ ہوتا جسے وہ نہیں جانتا- لیکن ملہموں کو بعض اوقات ان زبانوں میں بھی الہام ہوتے ہیں جنہیں وہ نہیں جانتے- پس معلوم ہوا کہ الہام الفاظ میں ہی ہوتا ہے نہ کہ خیالات کا نام الہام ہے- لفظی الہام پر عام طور پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ کیا خدا کی بھی زبان ہے اور ہونٹ ہیں کہ وہ الفاظ میں کلام کرتا ہے؟ اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کو بولنے کے لئے زبان کی حاجت نہیں ہے- کیونکہ وہ لیس کمثلہ شیئ ہے- جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے دنیا بغیر ہاتھوں کے پیدا کی ہے، انکے لئے اس بات کا