انوارالعلوم (جلد 10) — Page 143
۱۴۳ مدد کی محتاج ہے تو پھر روحانی دنیا میں خالی عقل پر بھروسہ کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے اور کس طرح قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسمانی سلسلہ کے لئے جو ادنیٰ تھا عقل کی خامیوں کو دور کرنے کیلئے تجربہ کو پیدا کیا اور روحانی سلسلہ میں جو اعلیٰ ہے عقل کی مدد کے لئے کوئی وجود نہ پیدا کیا؟ اگر کوئی کہے کہ جسمانی سلسلہ کی طرح روحانی سلسلہ میں بھی عقل کی امداد کے لئے تجربہ کو ہی کیوں نہ مقرر کیا گیا- تو اس کا جواب یہ ہے کہ تجربہ کئی ٹھوکروں کے بعد اصل نتیجہ پر پہنچاتا ہے- دنیا کی زندگی چونکہ عارضی ہے اس لئے اس میں تجربہ کرتے ہوئے ٹھوکریں کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے- لیکن اگر آئندہ کی زندگی کے متعلق جو ہمیشہ کی زندگی ہے ٹھوکریں کھانے کے لئے انسان کو چھوڑ دیا جاتا تو لاکھوں آدمی جو تجربہ سے پہلے پہلے مر جاتے حق سے محروم رہ جاتے اور سخت نقصان اٹھاتے اور اس دائمی زندگی کی ترقیات کو حاصل نہ کر سکتے- جس کے لئے وہ پیدا کئے گئے ہیں- علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تجربہ شروع کرنے کیلئے بھی پہلے ایک بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے- روحانی امور چونکہ غیر محسوس ہیں اور مخفی ہیں- اس لئے ان کے متعلق تجربہ مادی امور کی نسبت زیادہ مشکلات رکھتا ہے- چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب کہ مادہ کے متعلق سائنس نے انتہا درجہ کی ترقی کی ہے- دماغ کے ان افعال کے متعلق جو عقل اور ارادہ سے تعلق رکھتے ہیں- حالانکہ وہ روح کے برابر لطیف نہیں بہت ہی کم تحقیق ہوئی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ دنیا کی پیدائش پر اس قدر عرصہ گذر جانے کے باوجود اب تک تحقیق شروع ہی نہیں ہوئی- (۶)چھٹا وسوسہ جس میں لوگ مبتلا تھے- یہ تھا کہ الہام کا سلسلہ اب بالکل بند ہو چکا ہے- یہ عقیدہ مسلمانوں کا ہی نہ تھا بلکہ دوسرے مذاہب کا بھی یہی عقیدہ تھا- یہودی، مسیحی، ہندو سب پہلے زمانہ میں الہام کے قائل ہیں لیکن اب اس کے دروازہ کو بند بتاتے ہیں- حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اس خطرناک عقیدہ کی غلطی کو بھی دنیا پر ظاہر کیا اور بتایا کہ الہام تو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے ایک انعام ہے اور بندہ اور خدا تعالیٰ میں محبت کا نہ ٹوٹنے والا تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور یقین اور وثوق تک پہنچانے کا ذریعہ ہے اس کا سلسلہ بند کر کے مذہب اور روحانیت کا باقی کیا رہ جاتا ہے- مسلمانوں کو آپ نے توجہ دلائی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس لئے مبعوث ہوئے تھے کہ دنیا پر خدا تعالیٰ کی رحمت