انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 582

۵۸۲ دوسری مثال نصاریٰ نجران کا واقعہ پیش کرتا ہوں- نجران کے نصاری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث کے لئے آئے- انہوں نے ایسے رنگ میں بحث کی کہ تاریخوں میں آتا ہے بے ادبی سے گفتگو کرتے رہے- جب گفتگو کرتے کرتے اٹھ کر اس لئے جانے لگے کہ ان کی نماز کا وقت آ گیا تھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہیں نماز ادا کر لو- چنانچہ انہوں نے مسجد میں ہی اپنی صلیبیں نکالیں اور انہیں سامنے رکھ کر عبادت کر لی-۱۱؎ آج دیکھو کس طرح مسجدوں اور مندروں کے متعلق لڑائیاں ہوتی ہیں- مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں سے کہا کہ مسجد میں اپنے طریق سے عبادت کر لو- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی اسوہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اعلان کیا تھا کہ لنڈن کی مسجد میں دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی آزادی کے ساتھ آنے کی اجازت ہے مگر بعض مسلمانوں نے اس بات کو پیش کر کے کہا یہ مسجد نہیں دھر مسالہ ہے- غرض یہ عملی سلوک ہے غیر اقوام سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا- کون کہہ سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی جانیں لینے کے لئے اور ان پر ظلم کرنے کے لئے آئے تھے- جو جانیں لینے کے لئے آیا کرتا ہے کیا وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی مسجد میں صلیبیں پوجنے کی اجازت دے سکتا ہے- اور مسجد بھی وہ جس کے متعلق آپ نے اخرالمساجد ۱۲؎ فرمایا اور جس میں نماز پڑھنے پر دیگر مساجد کی نسبت بہت زیادہ ثواب رکھا گیا ہے- اس مسجد میں خدا تعالیٰ کے نبی کی موجودگی میں اور اس نبی کی موجودگی میں جو خدا تعالیٰ کی توحید قائم کرنے کے لئے آیا- نصاریٰ صلیبیں رکھ کر عبادت کرتے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کیا حرج ہے بے شک کر لو- آج بڑے بڑے حوصلہ والوں کی بھی اتنی جرات نہیں کہ اپنی عبادت گاہوں میں غیر مذاہب کے لوگوں کو عبادت کرنے دیں- تیسری مثال یہ ہے کہ آپ ہمسائیوں سے خواہ وہ کسی مذہب کے ہوں اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتے اور اس کے متعلق اتنا زور دیتے کہ صحابہ ہر وقت اس کی پابندی یاد رکھتے- لکھا ہے کہ ابن عباس ایک دفعہ گھر میں آئے- انہوں نے دیکھا کہیں سے ان کے ہاں گوشت آیا ہے- انہوں نے گھر والوں سے پوچھا اپنے ہمسائے یہودی کو گوشت بھیجا ہے یا نہیں- آپ نے اس بات کو اتنی دفعہ دہرایا کہ گھر والوں نے کہا آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں- انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے جبرائیل نے اتنی دفعہ ہمسایہ کے حق کی تاکید کی کہ میں