انوارالعلوم (جلد 10) — Page 583
۵۸۳ نے سمجھا اسے وراثت میں شریک کر دیا جائے گا- یہ عملی سلوک تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو آپ نے غیر مذاہب کے لوگوں سے روا رکھا- آپ لوگوں کے احساسات کا بھی بے حد خیال رکھتے تھے- ایک دفعہ حضرت ابوبکرؓ کے سامنے کسی یہودی نے کہا موسیٰ کی قسم جسے خدا نے سب نبیوں پر فضیلت دی- اس پر حضرتابوبکرؓ نے اسے طمانچہ مار دیا- جب یہ معاملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے حضرت ابوبکر جیسے انسان کو زجر کی- غور کرو مسلمانوں کی حکومت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت موسیٰؑ کو ایک یہودی فضیلت دیتا ہے اور ایسے طرز سے کلام کرتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ جیسے نرم دل انسان کو بھی غصہ آ جاتا ہے اور وہ اسے طمانچہ مار بیٹھتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ڈانٹتے ہیں اور فرماتے ہیں کیوں تم نے ایسا کیا- اسے حق ہے جو چاہے عقیدہ رکھے- چوتھی مثال فتح خیبر کے موقع پر ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور اس نے گوشت میں زہر ملا دیا- جب آپ کے سامنے رکھا گیا تو ایک صحابی بشر نے اس میں سے کھا لیا- مگر آپ کو الہاماً معلوم ہو گیا- اس لئے آپ نے لقمہ اٹھا کر پھر رکھ دیا- آپ نے اس عورت سے پوچھا کہ اس کھانے میں تو زہر ہے- اس نے کہا آپ کو کس نے بتلا دیا- آپ نے ایک ہڈی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس نے- یہودن نے کہا میں نے اس لئے زہر ملایا تھا کہ اگر آپ خدا کے سچے نبی ہیں تو آپ کو یہ بات معلوم ہو جائے گی- اگر جھوٹے ہیں تو دنیا کو آپ کے وجود سے نجات حاصل ہو جائے گی- آپ نے یہ سن کر فرمایا اسے کچھ نہ کہو- حالانکہ وہ صحابی بشر فوت ہو گئے- آپ کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والا صحابی فوت ہو گیا مگر آپ نے عورت ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا- حالانکہ اس نے آپ کی اور آپ کے مخلص صحابہ کی جان لینے کی کوشش کی تھی اور اس طرح اسلام کو بیخ و بن سے اکھیڑنا چاہا تھا- یہ کتنا بڑا سلوک تھا- پانچویں مثال جب آپ جنگ کے لئے جاتے تو حکم دیتے کسی قوم کی عبادت گاہیں نہ گرائی جائیں- ان کے مذہبی پیشواؤں کو نہ مارا جائے- عورتوں پر اور بوڑھوں، بچوں پر حملہ نہ کیا جائے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے یہ رواج تھا کہ پادریوں اور صوفیوں کو مار ڈالا جاتا تھا- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روک دیا- اگر آپ دیگر مذاہب کے ایسے دشمن ہوتے جیسے مخالفین آپ کو قرار دیتے ہیں تو کیا آپ یہ حکم دیتے کہ ان مذاہب کے راہنماؤں کو