انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 581

۵۸۱ جہاں مسلمانوں کو نقصان اور صدمہ پہنچا ہو، ورنہ عام طور پر سب غلاموں کی آزادی کا آپ نے حکم دیا- جنگ حنین کے موقع پر سینکڑوں غلام جو پکڑے آئے، باوجود اس کے کہ وہ دشمن تھے انہیں آپ نے آزاد کر دیا- دسویں تعلیم غیر مسلموں کے متعلق آپ نے یہ دی کہ جہاں اسلامی حکومت ہو، وہاں مسلمانوں پر زیادہ بوجھ رکھا جائے اور دوسروں پر کم-(۱) مسلمان لڑائی میں شامل ہوں- (۲) عشر یعنی دسواں حصہ پیداوار کا دیں- (۳) زکٰوۃ دیں- یعنی جمع مال کا حصہ دیں- یہ خدمات مسلمانوں کے لئے رکھی گئیں اور غیر مسلموں کے لئے اڑھائی روپیہ کے قریب فی کس ٹیکس رکھا جو مسلمانوں کے مقابلہ میں بہت کم ہے- اور پھر اسی وجہ سے مسلمانوں پر ان کی حفاظت کی ذمہ داری رکھی گئی ہے- آج کل یورپ میں دس دس روپیہ فی کس ٹیکس لگا ہوا ہے اور بعض ممالک میں اس سے بھی زیادہ ہے- مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لئے زیادہ ٹیکس رکھا اور جنگیخدمات بھی ان کا فرض قرار دیا- لیکن دوسروں کے لئے ٹیکس بھی کم رکھا اور جنگی خدمات سے بھی آزاد کر دیا- اب میں یہ بتاتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مذاہب کے انسانوں کے متعلق اپنا عمل کیا رکھا- اس کے لئے دو تین مثالیں پیش کرتا ہوں کیونکہ وقت تنگ ہو رہا ہے- پہلی مثال یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر قوم کے نیک انسانوں کا عملاً احترام کیا- لکھا ہے طی قوم سے جب جنگ ہوئی تو کچھ مشرک بطور قیدی پکڑے آئے- ان میں حاتم طائی کی بیٹی بھی تھی- اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ جانتے ہیں میں کس کی بیٹی ہوں- آپ نے فرمایا کس کی بیٹی ہو؟ اس نے کہا میں اس شخص کی بیٹی ہوں جو مصیبتوں کے وقت لوگوں کے کام آیا کرتا تھا- یعنی حاتم کی- وہ مسلمان نہ تھا لیکن چونکہ لوگوں سے اچھا سلوک کرتا تھا، اس لئے اس کی وجہ سے اس کی بیٹی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا- اس کا بھائی گرفتاری کے خوف سے بھاگا پھرتا تھا- آپ نے اسی وقت اسے روپیہ اور سواری دے کر کہا جا کر بھائی کو لے آؤ- وہ گئی اور اسے لے آئی- اس پر اس سلوک کا ایسا اثر ہوا کہ وہ مسلمان ہو گیا- اس سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر غیر مذاہب کے لوگوں کی خوبیوں کا اعتراف کیا اور اس وجہ سے اچھا سلوک کیا-