انوارالعلوم (جلد 10) — Page 419
۴۱۹ ہوں کہ کیا یہ مطالبہ جائز ہے، سو یاد رکھنا چاہئے کہ جواز پر دو طرح غور کیا جا سکتا ہے- اول: کیا اس مطالبہ سے کسی اور کے حقوق پر زد پڑتی ہے- دوم: کیا ملک کی ترقی اور نشوونما کے لئے یہ مطالبہ مضر ہے- اگر ان دونوں صورتوں میں سے کوئی ایک بھی ثابت ہو تو ہمیں اس مطالبہ کے پورا ہونے پر مسلمان کے فوائد اور اس کے مقابلہ پر ملک یا دوسری اقوام کو جو نقصانات پہنچ سکتے ہیں ان کا موزانہ کرنا پڑے گا- پہلا سوال کہ کیا اس مطالبہ کے پورا کرنے سے کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس جگہ پیدا ہی نہیں ہوتا- کیونکہ فیڈرل حکومت کے قیام میں کسی قوم کو نقصان نہیں پہنچتا- ہندوؤں کی اس ملک میں کثرت ہے- مرکزی حکومت میں ان کی کثرت ہی رہے گی- باقی رہے صوبہ جات ان میں بھی جو صوبے ہندو اکثریت والے ہیں، ان میں ہندوؤں کی کثرت رہے گی- اور جو مسلمان اکثریت والے ہیں، ان میں مسلمانوں کی اکثریت رہے گی- پس اس انتظام میں نہ ہندوؤں کا کوئی نقصان ہے اور نہ کسی قوم کا- اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس مطالبہ کے پورا کرنے میں کسی کی حق تلفی ہوتی ہے- اور یہ مطالبہ مسلمانوں کا کسی رعایت کا مطالبہ نہیں ہے- بلکہ بغیر کسی رعایت کے اپنے حق کی حفاظت کا مطالبہ ہے- اور اگر ہندو انہیں ایسے حقوق بھی دینے کیلئے تیار نہیں جن میں انہیں کوئی قربانی نہیں کرنی پڑتی، صرف اقلیتوں کی حفاظت ہوتی ہے تو انہیں یہ امید نہیں رکھنی چاہئے کہ اقلیتیں ان کے ساتھ مل جائیں گی- فیڈرل طرز حکومت ترقی میں روک نہیں دوسرا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ کیا یہ مطالبہ ملک کی ترقی کے راستہ میں تو روک نہ ہو گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ کا اصول کوئی غیر مجرب اصول نہیں ہے، بلکہ ایک لمبے عرصہ سے اس کا تجربہ کیا جا رہا ہے اور یہ بہترین اصل ثابت ہوا ہے- برٹشامپائر )BRITISHEMPIRE) بھی درحقیقت ایک قسم کا فیڈریشن )FEDERATION) ہے کہ جس کے آزاد حصوں کے کام میں مرکزی حکومت کوئی دخل نہیں دیتی- لیکن سب سے بہتر تجربہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ہوا ہے- ان ریاستوں کی گورنمنٹ کی ابتدا ہی فیڈرل اصول پر ہوئی ہے اور برابر یہ گورنمنٹ ترقی ہی کرتی چلی جا رہی ہے- اس وقت سب دنیا سے مالدار حکومت یہی ہے، بلکہ سب سے زیادہ طاقتور بھی- پچیس سال کی بات ہے کہ انگریزی حکومت