انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 418

۴۱۸ چنداختیارات جن کا ایک مرکز کے ہاتھ میں ہونا ضروری ہے جیسے ملکی فوج )صوبہ جات اپنی ضروریات کیلئے ایک مقامی فوج بھی رکھتے ہیں) ریل، تار، ڈاک، محصول برآمد درآمد کا انتظام، امور خارجیہ اور ان کا مقرر کرنا، سکہ کا اجراء وغیرہ وغیرہ ایک مرکزی حکومت کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں- جو اختیارات مرکزی حکومت کو شروع میں مل جائیں گے- ان سے زائد اس نے اگر حاصل کرنے ہوں یا کوئی نیا صیغہ نکلے جس کا اس سے پہلے خیال نہ ہو تو وہ چند قواعد کے مطابق تمام صوبہ جات مل کر اور مشورہ کے بعد اگر چاہیں تو ان کو عطا کریں گے- اس طرزحکومت میں ہر اک صوبہ اپنے طور پر ترقی کرنے کا پورا اختیار رکھے گا- اسلامی صوبے بغیر ہندو مرکزی حکومت کی دخل اندازی کے خوف کے آزادی سے ترقی کر سکیں گے اور ہندو صوبے اپنی جگہ ترقی کر سکیں گے اگر کہو کہ ہندو صوبوں میں مسلمانوں پر ظلم ہوا تو اس صورت میں اس کی اصلاح کی کوئی صورت نہ ہوگی- تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرکزی حکومت تو ہندو ہی ہوگی- اس کے ذریعہ سے مسلمانوں نے کیا کر لینا ہے- اگر ہندو ان کی بات سننے پر تیار ہونگے تو وہی اثر جو مرکزی حکومت پر ڈالنا ہے، اس صوبہ کی حکومت پر ڈالا جا سکتا ہے جس میں جھگڑا پیدا ہوگا- لیکن مرکزی حکومت کو حکومت کا حق دے دینے میں تو مسلمانوں کیلئے کوئی صوبہ بھی آزاد نہ رہے گا- اس آزاد حکومت کا یہ بھی اثر ہوگا کہ مرکزی حکومت بھی ظلم کرتے ہوئے ڈرے گی- کیونکہ وہ جانے گی کہ اس کے اختیار کی وسعت صوبہ جات کی رائے پر ہے- اگر وہ کسی خاص مذہب کے صوبہ کو دق کرے گی تو اسے بھی حقوق کے ملنے میں مشکل ہوگی- اس صوبہجات کی نگرانی میں یاد رکھنا چاہئے کہ آٹھ یا نو ہندو صوبوں کے مقابلہ میں پانچ مسلمان صوبے ہونگے- اور آبادی کی نسبت سے مسلمانوں کا حق زیادہ ہو جائے گا- یعنی ثلث سے بھی زیادہ اور اختیارات کی وسعت کے سوال کے متعلق دوسری حکومتوں کی طرح یہ قانون بنانا ہوگا کہ تین چوتھائی صوبوں کی مرضی پر اختیارات وسیع ہو سکتے ہیں- اور اس طرح مسلمانوں کا زور بہت حد تک موثر ہوگا- مسلمانوں کا فیڈرل حکومت کا مطالبہ جائز ہے یہ بتانے کے بعد کہ مسلمانوں کا یہ مطالبہ ضروری ہے اور بلاوجہ نہیں اور یہ کہ اس کے بغیر مسلمانوں کے حقوق ہر گز محفوظ نہیں رہتے اور نہرو رپورٹ کا اس مطالبہ کو رد کرنا گویا مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت سے انکار کرنا ہے، اب میں اس امر پر روشنی ڈالتا