انوارالعلوم (جلد 10) — Page 212
انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۱۲ جامعہ احمدیہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا۔ قرآن کریم میں صاف الفاظ میں خدا تعالی فرماتا ہے ۔ وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ، اور دوسری جگہ فرماتا ہے۔ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا افَةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ہے کہ تمام کے تمام لوگ چونکہ مرکز میں نہیں پہنچ سکتے ، اس لئے چاہئے کہ وہ اپنے میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے وقف کر دیں کہ جو دین سیکھے اور پھر جا کر دوسروں کو سکھائے۔ الله ان آیات سے ظاہر ہے کہ یہ مدرسہ رسول کریم میل کے وقت سے قائم ہے اور قرآن کریم نے قائم کیا ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر وسعت دی۔ بے شک آپ سے پہلے عربی مدارس قائم تھے مگر وہ پرانے کالجوں کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں۔ یہ ایسے ہی کالج تھے جیسے اس وقت گورنمنٹ کالج ہیں۔ سو اگر موجودہ گورنمنٹ کی حالت گر جائے تو سو سال کے اندر اندر ان کالجوں کی وہی حالت ہو جائے گی جو عربی مدارس کی اب ہے۔ جن عربی کالجوں کی یہ بگڑی ہوئی شکلیں ہمارے زمانہ میں موجود ہیں، وہ اس طرح کے کالج تھے جس طرح کے حکومت کے اس وقت ہیں۔ یعنی دنیوی کاروبار کے لئے ان میں لوگوں کو تیار کیا جاتا تھا نہ کہ تبلیغ کیلئے تعلیم دی جاتی تھی وہی تعلیم اب تک چلی جا رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان مدارس میں سے نکلے ہوئے اکثر لوگ ایسے ہونگے جو قرآن نہ جانتے ہوں گے۔ ایسے مولوی یوں تو زمین آسمان کے قلابے ملائیں گے لیکن جب ان کے سامنے کوئی آیت پیش کر کے کہا جائے گا کہ اس کا مطلب بتاؤ تو کہیں گے اس کے لئے تفسیر دیکھنی چاہئے۔ مطلب یہ کہ اس نے قرآن پڑھا ہوا ہی نہ ہو گا اور قرآن کے معنی نہیں آتے ہونگے۔ کسی نے اپنے شوق سے پڑھ لیا تو پڑھ لیا ورنہ ان مدارس میں پڑھایا نہیں جاتا۔ غرض یہ مدارس تبلیغی نہ تھے بلکہ دنیوی کالج تھے۔ جیسے گورنمنٹ کالج ، خالصہ کالج، ڈی۔اے۔ وی کالج ہیں۔ ان مدارس میں پڑھنے والوں کو ملازمتیں ملتی تھیں۔ وہ دنیوی کاروبار میں اس تعلیم سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ وہ مدرسہ جو تبلیغ اسلام کی خاطر اور اشاعت اسلام کو مد نظر رکھ کر قائم کیا گیا اور جس کی کی غرض وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُوا أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ الخ کی مصداق جماعت پیدا کرنا تھی وہ یہی مدرسہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام