انوارالعلوم (جلد 10) — Page 213
۲۱۳ نے قائم کیا اور جو ترقی کر کے اب جامعہ بن رہا ہے عربی مدارس میں بے شک حدیث پڑھائی جاتی تھی مگر اس لئے نہیں کہ ولتكن منکم امة یدعون إلى الخير والی جماعت پیدا ہو۔بلکہ اسے ایک علم سمجھا جاتا اور اس لئے پڑھایا جاتا کہ اس سے مفتی اور قاضی بننے میں مدد مل سکتی تھی اور نوکری مل جاتی تھی۔اسی طرح فقہ پڑھاتے مگر اس لئے نہیں کہ غیر مسلموں کو مسلمان بنا کر انہیں اسلامی امور سمجھائیں گے بلکہ اس لئے کہ مفتی اور قاضی نہ بن سکیں گے اگر یہ نہ پڑھیں گے۔یہ ایسی ہی تعلیم تھی جیسی آج کل لاء (LAW) کالج کی ہے۔اس کی غرض یہ نہیں کہ قانون کی آگے تبلیغ کی جائے گی، بلکہ یہ ہے کہ ملازمت حاصل ہو۔پس ولتكن منکم امة یدعون إلى الخير و یامرون بالمعروف کو مسلمانوں نے کئی سَو سال سے بھلا رکھا تھا۔رسول کریم ﷺنے ایسا سکول جاری کیا تھا اور آپ اس میں پڑھاتے رہے، بعد میں چند صحابہ نے اسے جاری رکھا۔جب وہ قوم ختم ہو گئی تو وہ مدرسہ بھی ختم ہو گیا۔پھر یہ دنیوی علوم بن گئے یعنی محض دنیوی فوائد کے لئے پڑھے جانے لگے ، اشاعت اسلام ان کے پڑھنے کی غرض نہ رہی۔اب اس زمانہ میں خدا تعالی نے ہمیں یہ فضیلت اور مرتبہ دیا اور ہمیں اس پر فخر کرنا چاہئے کہ تیرہ سو سال کے بعد ہمیں اس آیت پر عمل کرنے کی توفیق خدا تعالی نے دی۔خدا تعالی کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد اور ہدایت کے ماتحت مدرسہ احمدیہ قائم کیا گیا تا کہ اس میں ایسے لوگ تیار ہوں جو ولتكن منکم امة یدعون إلى الخير - الخ کے منشاء کو پورا کرنے والے لوگ ہوں۔بے شک اس مدرسہ سے نکلنے والے بعض نوکریاں بھی کرتے ہیں مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک شخص ایک ہی کام کا اہل نہیں ہوتا۔انگریزوں میں بہت سے لوگ قانون پڑھتے ہیں مگر لاء کالج سے نکل کر سارے کے سارے بیرسٹری کا کام نہیں کرتے بلکہ کئی ایک اور کاروبار کرتے ہیں تو اس مدرسہ سے پڑھ کر نکلنے والے کئی ایسے ہوتے ہیں جو ملازمتیں کرتے ہیں۔مگر یہ اس لئے ہمیں بتایا گیا کہ اس سے تعلیم حاصل کرنے والے نوکریاں کریں۔بلکہ اصل مقصد یہی ہے کہ مبلّغ بنیں۔اب یہ دوسری کڑی ہے کہ ہم اس مدرسہ کو کانچ کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔تبلیغ کے لحاظ سے یہ کالج ایسا ہونا چاہئے کہ اس میں نہ صرف دینی علوم پڑھائے جائیں بلکہ دوسری زبانیں بھی پڑھانی ضروری ہیں۔ہمارے جامعہ میں بعض کو انگریزی بعض کو جرمنی بعض کو سنسکرت بعض کو