انوارالعلوم (جلد 10) — Page 153
۱۵۳ مگر کیا کوئی سمجھدار کہہ سکتا ہے کہ یہ باتیں ایسی اہم ہیں کہ خدا کے کلام اور خصوصاً آخری شریعت کے کامل کلام میں ان باتوں کا ذکر کیا جائے جن کا نہ دین سے تعلق ہے نہ عرفان سے- اور کیا یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نبی ایسے امور میں جن کو یہاں بیان کیا گیا ہے مشغول ہو سکتے ہیں-؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کی تشریح فرمائی ہے کہ اس نے حقیقت کو ظاہر کر دیا ہے اور صاف طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ قرآن کریم میں جو کچھ بیان ہوا ہے ایمان و عرفان کی ترقی کیلئے ہے- آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ سبا ایک مشرکہ عورت تھی اور سورج پرست تھی- حضرت سلیمانؑ اسے سبق دینا چاہتے تھے اور شرک چھڑانا چاہتے تھے- پس آپ نے لفظوں میں دلیل دینے کے ساتھ ساتھ یہ طریق بھی پسند کیا کہ عملاً اس کے عقیدہ کی غلطی اس پر ظاہر کریں- اور اس کی ملاقات کے لئے ایک ایسے قلعہ کو تجویز کیا جس میں شیشہ کا فرش تھا اور نیچے پانی بہتا تھا- جب ملکہ اس فرش پر سے چلنے لگی تو اسے پانی کی ایک جھلک نظر آئی- جسے دیکھ کر اس نے اپنا لباس اونچا کر لیا- یا یہ کہ وہ گھبرا گئی )کشف ساق کے دونوں ہی معنی ہیں( اس پر حضرت سلیمانؑ نے اسے تسلی دی اور کہا کہ جسے تم پانی سمجھتی ہو یہ تو اصل میں شیشہ کا فرش ہے جس کے نیچے پانی ہے- چونکہ پہلے دلائل سے شرک کی غلطی اس پر ثابت کر چکے تھے اس نے فوراً سمجھ لیا کہ انہوں نے ایک عملی مثال دے کر مجھ پر شرک کی حقیقت کھول دی ہے اور وہ اس طرح کہ جس طرح پانی کی جھلک شیشہ میں سے تجھے نظر آئی ہے اور تو نے اسے پانی سمجھ لیا ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کا نور اجرام فلکی میں سے جھلکا ہے اور لوگ انہیں خدا ہی سمجھ لیتے ہیں- حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کے نور سے نور حاصل کر رہے ہوتے ہیں چنانچہ اس دلیل سے وہ فوراً متاثر ہوئی اور بے تحاشا کہہ اٹھی کہاسملت مع سلیمن للہ رب العلمین اس خدا پر ایمان لاتی ہوں جو سب جہانوں کا رب ہے- یعنی سورج وغیرہ بھی اسی سے فیض حاصل کر رہے ہیں اور اصل فیض رسان وہی ایکہے- اب دیکھو یہ کیسا اہم اور فلسفیانہ مضمون ہے اور اس پر ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے- مگر پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ بالوں والی پنڈلیاں دیکھنے کے لئے محل بنایا گیا تھا- کیا جن عورتوں کی پنڈلیوں پر بال ہوں ان کی شادی نہیں ہوتی؟ اور نبی ایسے حالات میں مبتلا ہو سکتا ہے؟ غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے مضامین کی اہمیت کو قائم کیا اور اس کی طرف