اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 468 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 468

اسماء المهدی صفحہ 468 ایک مجدد کھلے کھلے دعویٰ کے ساتھ آتا۔سو عنقریب میرے کاموں کے ساتھ تم مجھے شناخت کرو گے۔ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا۔اس وقت علماء کی نا کبھی اس کی سد راہ ہوئی۔آخر جب وہ پہچانا گیا تو اپنے کاموں سے پہچانا گیا کہ تلخ درخت شیریں پھل نہیں لاسکتا۔اور خدا غیر کو وہ برکتیں نہیں دیتا جو خاصوں کو دی جاتی ہیں۔“ س: روحانی خزائن جلد 6، صفحہ 36- برکات الدعا) بعض ” جاہل اس جگہ یہ کہا کرتے ہیں کہ ہمیں بھی سچی خواہیں آجاتی ہیں۔کبھی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔کبھی الہام بھی ہو جاتا ہے۔پس ہم میں اور رسولوں میں کیا فرق ہے؟“ ج یہ ایک ایسا مغرورانہ خیال ہے جس سے اس زمانہ میں بہت سے لوگ ہلاک ہورہے ہیں۔لیکن طالب حق کے لئے ان اوہام کا صاف جواب ہے اور وہ یہ کہ بلاشبہ یہ بات سچ ہے کہ خدا نے ایک گروہ کو اپنے خاص فضل اور عنایت کے ساتھ برگزیدہ کر کے اپنی روحانی نعمتوں کا بہت سا حصہ ان کو دیا ہے۔اس لئے باوجود اس کے کہ ایسے معاند اور اندھے ہمیشہ انبیاء علیہم السلام سے منکر رہے ہیں۔تاہم خدا کے نبی ان پر غالب آتے رہے ہیں۔اور ان کا خارق عادت نور ہمیشہ ایسے طور سے ظاہر ہوتا رہا ہے کہ آخر منظمندوں کو ماننا پڑا ہے کہ ان میں اور ان کے غیروں میں ایک عظیم الشان امتیاز ہے۔جیسا کہ ظاہر ہے کہ ایک مفلس گدائی پیشہ کے پاس بھی چند درہم ہوتے ہیں۔اور ایک شہنشاہ کے خزائن بھی دراہم