اسماء المہدی علیہ السلام — Page 428
اسماء المهدی صفحہ 428 کہ خدا موجود ہے۔لیکن جس دین میں خدا کے نشانوں کے ذکر کرنے کے وقت صرف قصوں کا حوالہ دیا جاتا ہے اس کے ذریعہ سے خدا کی معرفت کیونکر حاصل ہو؟ دوستو ! خدا کے تازہ بتازہ نشانوں میں عجیب لذت ہے۔اس لذت کی کیفیت ہم کیونکر بیان کر سکتے ہیں۔وہ کس قدر ایمان کی ترقی کا وقت ہوتا ہے جبکہ خدا کوئی غیب کی خبر ہمیں بتلا کر ثابت کرتا ہے کہ میں موجود ہوں اور ساتھ کسی مشکل کو حل کر کے ظاہر کرتا ہے کہ میں قادر ہوں۔اور ہمارے دشمن کو ہلاک کر کے اپنی وحی سے ہمیں مطلع کرتا ہے کہ میں تمہارا مؤید اور مددگار ہوں۔اور ہمارے دوستوں کی نسبت ہماری دعائیں قبول کر کے ہمیں اطلاع دیتا ہے کہ میں تمہارے دوستوں کا دوست ہوں۔66 (روحانی خزائن جلد 23، صفحہ 335۔چشمہ معرفت ) اس کے بعد چند پیشگوئیوں کا ذکر کرنے کے بعد جو دوستوں دشمنوں سے تعلق رکھتی ہیں ، آپ تحریر فرماتے ہیں کہ: میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ خدا کے نشان ہیں جو بارش کی طرح برس رہے ہیں۔اور ایسا کوئی مہینہ کم گذرتا ہے جس میں کوئی آسمانی نشان ظاہر نہ ہو۔لیکن یہ اس لئے نہیں کہ میری روح میں تمام روحوں سے زیادہ نیکی اور پاکیزگی ہے۔بلکہ اس لئے ہے کہ خدا نے اس زمانہ میں ارادہ کیا ہے کہ اسلام جس نے دشمنوں کے ہاتھ سے بہت صدمات اٹھائے ہیں وہ اب سرِ نو تازہ کیا جائے۔اور خدا کے نزدیک جو اس کی عزت ہے وہ