اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 65 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 65

اسماء المهدی صفحه 65 کہیں گے کہ یہ حقیر آدمی ہمارے پیروں کی شان بزرگ کو کب پہنچ سکتا ہے۔اور جب خود ہمارے بڑے پیروں نے مرادیں دینے کا وعدہ دے رکھا ہے تو یہ کون ہے اور اس کی کیا حیثیت اور کیا بضاعت اور کیا رتبت اور کیا منزلت۔تا ان کو چھوڑ کر اس کی سنیں۔سو یہ دو فائدے بزرگ ہیں جن کی وجہ سے اس مولیٰ کریم نے کہ جو سب عزتوں اور تعریفوں کا مالک ہے اپنے ایک عاجز بندہ اور مشتِ خاک کی تعریفیں کیں۔ورنہ در حقیقت نا چیز خاک کی کیا تعریف۔سب تعریفیں اور تمام نیکیاں اسی ایک کی طرف راجع ہیں کہ جو رَبُّ الْعَالَمِينَ اور الْحَيُّ الْقَيُّوْمِ ہے۔اور جب خداوند تعالیٰ عز اسمہ مصلحت مذکورہ بالا کی غرض سے کسی بندہ کی جس کے ہاتھ پر خلق اللہ کی اصلاح منظور ہے، کچھ تعریف کرے تو اس بندہ پر لازم ہے کہ اس تعریف کو خلق اللہ کی نفع رسانی کی نیت سے اچھی طرح مشتہر کرے۔اور اس بات سے ہرگز نہ ڈرے کہ عوام الناس کیا کہیں گے۔۔۔در حقیقت یہ تعریفیں عوام الناس کے حق میں موجب بہبودی ہیں۔اور گوابتداء میں عوام الناس کو وہ تعریفیں مگر وہ اور کچھ افتر اسا معلوم ہوں لیکن انجام کا رخدائے تعالیٰ ان پر حق الا مر کھول دیتا ہے۔اور جب اس ضعیف بندہ کا حق بجانب ہونا اور مُؤَيَّدُ مِنَ الله ہونا عوام پر کھل جاتا ہے تو وہ تمام تعریفیں ایسے شخص کی کہ جو میدان جنگ میں کھڑا ہے ایک فتح عظیم کا موجب ہو جاتی ہیں۔اور ایک عجیب اثر پیدا کر کے خدا کے گم گشتہ بندوں کو اصلی تو حید اور تفرید کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔اور