اسماء المہدی علیہ السلام — Page 64
اسماء المهدی صفحہ 64 اس جگہ بعض خاموں کے دلوں میں یہ وہم بھی گذر سکتا ہے کہ اس مندرجہ بالا الہامی عبارت میں کیوں ایک مسلمان کی تعریفیں لکھی ہیں۔سو سمجھنا چاہئے کہ ان تعریفوں سے دو بزرگ فائدے محصور ہیں جن کو حکیم مطلق نے خلق اللہ کی بھلائی کے لئے مد نظر رکھ کر ان تعریفوں کو بیان فرمایا ہے۔ایک یہ کہ تا نبی متبوع کی متابعت کی تاثیر میں معلوم ہوں اور تا عامہ خلائق پر واضح ہو کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی کس قدرشان بزرگ ہے۔اور اس آفتاب صداقت کی کیسی اعلیٰ درجے پر روشن تاثیریں ہیں۔جس کا اتباع کسی کو مومن کامل بناتا ہے۔کسی کو عارف کے درجے تک پہنچاتا ہے۔کسی کو آیت اللہ اور حجتہ اللہ کا مرتبہ عنایت فرماتا ہے اور محامد الہیہ کا مورد ٹھہراتا ہے۔دوسرے یہ فائدہ کہ نئے مستفیض کی تعریف کرنے میں بہت سی اندرونی بدعات اور مفاسد کی اصلاح متصور ہے۔کیونکہ جس حالت میں اکثر جاہلوں نے گزشتہ اولیاء اور صالحین پر صد با اس قسم کی تہمتیں لگارکھی ہیں کہ گویا انہوں نے آپ یہ فہمائش کی تھی کہ ہم کو خدا کا شریک ٹھہراؤ اور ہم سے مرادیں مانگو اور ہم کو خدا کی طرح قادر اور متصرف فی الکائنات سمجھو۔تو اس صورت میں اگر کوئی نیا مصلح ایسی تعریفوں سے عزت یاب نہ ہو کہ جو تعریفیں ان کو اپنے پیروں کی نسبت ذہن نشین ہیں تب تک وعظ اور پند اس مصلح جدید کا بہت ہی کم مؤثر ہوگا۔کیونکہ وہ لوگ ضرور دل میں