اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 66 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 66

اسماء المهدی صفحہ 66 اگر تھوڑے دن ہنسی اور ملامت کا موجب ٹھہریں تو ان ٹھٹھوں اور ملامت کا برداشت کر نا خادم دین کے لئے عین سعادت اور فخر ہے“۔(روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 273-270 - براہین احمدیہ حصہ سوم حاشیه در حاشیہ نمبر 1) یہ ساری تعریف اور بزرگی آنحضرت ﷺ ہی کی ہے کم فہم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ میں اپنے مدارج کو حد سے بڑھاتا ہوں۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری طبیعت اور فطرت میں ہی یہ بات نہیں کہ میں اپنے آپ کو کسی تعریف کا خواہشمند پاؤں اور اپنی عظمت کے اظہار سے خوش ہوں۔میں ہمیشہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا ہوں لیکن یہ میرے اختیار اور طاقت سے باہر تھا کہ خدا تعالیٰ نے خود مجھے باہر نکالا اور جس قدر میری تعریف اور بزرگی کا اظہار اس نے اپنے پاک کلام میں جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے، کیا، یہ ساری تعریف اور بزرگی آنحضرت ﷺ ہی کی ہے۔احمق اس بات کو نہیں سمجھ سکتا مگر سلیم الفطرت اور بار یک نگاہ سے دیکھنے والا دانشمند خوب سوچ سکتا ہے کہ اس وقت واقعی ضروری تھا کہ جبکہ آنحضرت ﷺ کی اس قدر ہتک کی گئی ہے اور عیسائی مذہب کے واعظوں اور منادوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ اُس سید الکونین کی شان میں گستاخیاں کی ہیں۔اور ایک عاجز مریم کے بچے کو خدا کی کرسی پر جا بٹھایا ہے۔اللہ تعالی کی غیرت نے آپ کا جلال ظاہر کرنے کیلئے یہ مقدر کیا تھا کہ آپ کے ایک ادنی غلام کو مسیح الله