اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 215 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 215

اسماء المهدی صفحہ 215 اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اس کان سے ملا ہے۔اور اس کی اس قدر قیمت ہے کہ اگر میں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم کروں تو سب کے سب اس شخص سے زیادہ دولتمند ہو جائیں گے جس کے پاس آج دنیا میں سب سے بڑھ کر سونا اور چاندی ہے۔وہ ہیرا کیا ہے؟ سچا خدا۔اور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہچانا اور سچا ایمان اس پر لانا اور سچی محبت کے ساتھ اس سے تعلق پیدا کرنا اور کچی برکات اس سے پانا۔پس اس قدر دولت پا کر سخت ظلم ہے کہ میں بنی نوع کو اس سے محروم رکھوں اور وہ بھوکے مریں اور میں عیش کروں۔یہ مجھ سے ہر گز نہیں ہو گا۔میرا دل ان کے فقر وفاقہ کو دیکھ کر کباب ہو جاتا ہے۔ان کی تاریکی اور تنگ گذرانی پر میری جان گھٹتی جاتی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آسمانی مال سے ان کے گھر بھر جائیں اور سچائی اور یقین کے جواہر ان کو اتنے ملیں کہ ان کے دامن استعداد پر ہو جائیں۔وہ خزانہ جو مجھے ملا ہے جو بہشت کے تمام خزانوں اور نعمتوں کی کنجی ہے وہ جوش محبت سے نوع انسان کے سامنے پیش کرتا ہوں۔“ (روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 345-344۔اربعین نمبر 1) کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے