اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 162 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 162

اسماء المهدی صفحه 162 سے مستفید اور محظوظ ہوتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کا بھی یہی طریق تھا، آپ لوگوں کے فہم وفرست اور حالات کے مطابق گفتگو فرماتے تھے۔اس لئے یہ عام ہدایت ہے کہ كَلَّمُوا النَّاسَ عَلَى قَدْر عُقُولِهِمْ یعنی لوگوں سے ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق گفتگو کرو۔روحانی مدارج کے لحاظ سے قرآن کریم میں یہ تین اصطلاحیں مستعمل ہیں: (۱) نفس امارہ۔(۲) نفس لوامہ (۳) نفس معلمانہ۔لیکن صوفیا انہیں فتا، بقا اور لقا کے نام دیتے ہیں۔قرآن کریم نے ان اصطلاحوں کو بھی ایک آیت میں یوں بیان فرمایا ہے: بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُوْنَ۔چنانچہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے اپنی کتاب ” آئینہ کمالات اسلام میں مرتبہ لقا کے ضمن میں تحریر فرماتے ہوئے صوفیاء کی اصطلاح " اطفال اللہ کا فلسفہ بیان فرماتے ہیں: اور یہ لقا کا مرتبہ تب سالک کے لئے کامل طور پر متفق ہوتا ہے کہ جب ربانی رنگ بشریت کے رنگ و بو کو بتمام و کمال اپنے رنگ کے نیچے متوازی اور پوشیدہ کر دیوے۔جس طرح آگ لوہے کے رنگ کو اپنے نیچے ایسا چھپا لیتی ہے کہ نظر ظاہر میں بجز آگ کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔۔۔۔اس مقام میں جو اولیاء اللہ پہنچے ہیں یا جن کو اس میں سے کوئی گھونٹ میسر آ گیا ہے۔بعض اہل تصوف نے ان کا نام اطفال اللہ رکھ دیا ہے۔اس مناسبت سے کہ وہ لوگ صفات الہی کے کنارِ عاطفت میں بکتی