اسماء المہدی علیہ السلام — Page 163
اسماء المهدی صفحہ 163 جاپڑے ہیں۔اور جیسے ایک شخص کا لڑکا اپنے حلیہ اور خط و خال میں کچھ اپنے باپ سے مناسبت رکھتا ہے ویسا ہی ان کو بھی فلمی طور پر بوجہ تخلق باخلاق اللہ خدا تعالیٰ کی صفات جمیلہ سے کچھ مناسبت پیدا ہوگئی ہے۔“ (روحانی خزائن جلد پنجم صفحہ 64۔آئینہ کمالات اسلام) اس خطاب میں آپ کے موحد ہونے کا آسمانی اعلان ہے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفین نے اپنے فتاوی میں آپ کے متعلق سراسر افترا اور کذب سے کام لیتے ہوئے مشرک، منکر خدا اور کا فرایسے نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس الہام میں ان الزاموں کی تردید کر کے یہ واضح کیا ہے کہ آپ حقیقی موحد اور توحید پرست ہیں۔کیونکہ آپ بمنزلہ بیٹے کے ہیں۔اور کوئی بیٹا ایک سے زیادہ باپ تسلیم نہیں کرتا۔پس جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ کہا کہ تو مجھ سے بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے تو گویا اس میں اس حقیقت کا اظہار و اعلان کیا گیا ہے کہ تو میری توحید اور وحدانیت کے لئے ایسی ہی غیرت رکھتا ہے جیسا کہ ایک صحیح العقل انسان فطرتی طور پر اپنے جسمانی باپ کی وحدانیت کو تسلیم کرتا اور غیرت رکھتا ہے۔چنانچہ اسی قسم اور اسی مفہوم کا ایک الہام قرآن کریم میں بھی پایا جاتا ہے۔جوفرمایا فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَ كُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (بقرة ركوع 25 ) کہ اللہ تعالیٰ کو ایسا یا دکر وجیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔اس آیت میں بھی فطرت صحیحہ کو بیدار کر کے خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا وعظ کیا گیا ہے۔