اسماء المہدی علیہ السلام — Page 160
اسماء المهدی صفحہ 160 بمنزلة اولادی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالی نے اپنے الہام میں بمنزلۃ اولا د ٹھہرایا ہے۔اس الہام کی بناء پر غیر از جماعت علماء ومعترضین حضور پر خدا کا بیٹا ہونے کا دعوی کرنے کا الزام لگاتے ہیں، جو کہ ہر گز صحیح نہیں ہے۔چنانچہ حضور علیہ السلام مختلف مقامات پر اس الہام کی تشریح و وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ نے یہ الفاظ میرے حق میں اس واسطے استعمال کئے ہیں کہ تا عیسائیوں کا رڈ ہو اللہ تعالیٰ نے جو ہم کو مخاطب کیا ہے کہ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ أَوْلَادِعْ اس جگہ یہ تو نہیں کہ تو میری اولاد ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ بمنزلہ اولاد کے ہے یعنی اولاد کی طرح ہے۔اور دراصل یہ عیسائیوں کی اس بات کا جواب ہے جو وہ حضرت عیسی کو حقیقی طور پر ابن اللہ مانتے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی کوئی اولا د نہیں اور خدا تعالیٰ نے یہودیوں کے اس قول کا عام طور پر کوئی رڈ نہیں کیا جو کہتے تھے کہ نَحْنُ اَبْناءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ (المائدة:19)۔بلکہ یہ ظاہر کیا کہ تم ان ناموں کے مستحق نہیں ہو۔دراصل یہ ایک محاورہ ہے کہ