اسماء المہدی علیہ السلام — Page 63
اسماء المهدی صفحه 63 کی ایک روایت درج کی جاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کا ذاتی نام کسی کو معلوم نہیں ہے۔حضرت امام جعفر سے روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امام مہدی کا نام دریافت فرمایا تو آپ نے جواب میں فرمایا : أَمَا اسْمُه فَلا ، إِنَّ حَبِيْبِي وَ خَلِيْلِيْ عَهِدَ إِلَيَّ أَن لَّا أُحَدِتَ بِاسْمِهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ مِمَّا اسْتَوْدَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَسُوْلَهُ فِي 66 علمه “ (بحارالانوار جلد 51 باب النهي عن التسمية صفحہ 34-33 داراحياء التراث العربی۔بیروت طبع ثالث 1983ء) یعنی اس کا نام تو میں نہیں بتاتا کیونکہ میرے حبیب اور میرے دوست نے مجھ سے عہد لیا ہے کہ میں اس کا نام کسی کو نہ بتاؤں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے مبعوث کرے اور یہ ان امور میں سے ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول کو دیا ہے۔پس اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی مسعود علیہ السلام کے تمام نام صفاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ایک امتی کی تعریف و توصیف کرنے میں حکمت سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ حصہ سوم میں اپنے بہت سے الہامات لکھے ہیں جن میں آپ کی تعریف کی گئی ہے۔اس تعریف کی حکمت و فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام لکھتے ہیں :