اسماء المہدی علیہ السلام — Page 420
اسماء المهدی صفحہ 420 ہونے کا دعوی کیونکر کر سکتے ہیں جبکہ وہ خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتے۔حکم تو یہ تھا کہ جب وہ امام موعود ظاہر ہو تو تم بلا توقف اس کی طرف دوڑو۔اور اگر برف پر گھٹنوں کے بل بھی چلنا پڑے تب بھی اپنے تئیں اس تک پہنچاؤ۔لیکن اس کے برخلاف اب لا پرواہی ظاہر کی جاتی ہے۔کیا یہی اسلام ہے؟۔اور یہی مسلمانی ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 220 لیکچر سیالکوٹ) پس یہ نہایت مغرورانہ خیال ہے کہ کوئی یہ کہے کہ مجھے خدا کے نبیوں اور رسولوں کی ضرورت نہیں اور نہ کچھ حاجت۔یہ سلپ ایمان کی نشانی ہے۔اور ایسے خیال والا انسان اپنے تئیں دھوکا دیتا ہے۔جبکہ وہ کہتا ہے کہ کیا میں نماز نہیں پڑھتا یا روزہ نہیں رکھتا یا کلمہ گونہیں ہوں۔چونکہ وہ بچے ایمان اور بچے ذوق وشوق سے بے خبر ہے اس لئے ایسا کہتا ہے۔اس کو سوچنا چاہئے کہ گو انسان کو خدا ہی پیدا کرتا ہے۔مگر کس طرح اس نے ایک انسان کو دوسرے انسان کی پیدائش کا سبب بنا دیا ہے۔پس جس طرح جسمانی سلسلہ میں جسمانی باپ ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ایسا ہی روحانی سلسلہ میں روحانی باپ بھی ہیں جن سے روحانی پیدائش ہوتی ہے۔ہوشیار رہو اور اپنے تئیں صرف ظاہری صورت اسلام سے دھوکا مت دو۔اور خدا کی کلام کو غور سے پڑھو کہ وہ تم سے کیا چاہتا ہے۔66 (روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 227۔لیکچر سیالکوٹ)