اسماء المہدی علیہ السلام — Page 391
اسماء المهدی صفحہ 391 ہمیشہ نہیں رہ سکتیں اور محدود اور قابل زوال ہیں۔جن سے مراد یہ ہے کہ دوستوں اور غریبوں اور مسکینوں اور رجوع کرنیوالوں کی نسبت ان کی صحت اور عافیت یا کامیابی اور امن یا فقر و فاقہ سے مخلصی اور سلامتی کے بارہ میں برکات عطا کرنا اور ظالم درندوں کی نسبت ان کی ہلاکت اور تباہی کے بارہ میں جو درحقیقت غریبوں اور نیکوں کی نسبت وہ بھی برکات ہیں قہر الہی کی بشارت دینا جیسا کہ حضرت مسیح نے یہودیوں کی تباہی کی نسبت بشارت دی تھی۔ان برکات کے عطا کرنے کے لحاظ سے اور نیز ان دنیوی برکات کے لحاظ سے بھی کہ اس زمانہ میں انسانوں کی زندگی میں بہت سے وسائل آرام پیدا ہوجائیں گے وہ عیسی ابن مریم کہلائے گا۔کیونکہ جو برکات اعلیٰ درجہ کی اور بکثرت حضرت مسیح کو دی گئی تھیں وہ یہی ہیں۔اس لئے آخری امام کے لئے ان برکات کا سر چشمہ حضرت مسیح ٹھہرائے گئے۔اور چونکہ حقیقت عیسوی یہی ہے اس لئے اس حقیقت کے پانے والے کا نام عیسی بن مریم قرار پایا۔جیسا کہ مہدویت کے لحاظ سے جو حقیقت محمد ی تھی اس کا نام مہدی رکھا گیا۔س: (روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 398-397۔ایام الصلح ) ، اب اگر یہ سوال پیش ہو کہ ہمیں کیونکر معلوم ہو کہ یہ دونوں قسم کی برکتیں جو عیسوی برکت اور محمدی برکت کے نام سے موسوم ہوسکتی ہیں تم میں جو مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کرتے ہو جمع ہیں؟ اور کیونکر ہم صرف دعویٰ کو قبول کر لیں؟“