اسماء المہدی علیہ السلام — Page 392
اسماء المهدی ج: وو صفحه 392 سواس کا جواب یہ ہے کہ ان برکات کو اللہ جل شانہ نے محض اپنے فضل وکرم سے مجھ میں ثابت کر دیا ہے۔اور میں بڑے دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں ان دونوں قسم کی برکتوں کا جامع ہوں۔اور آج تک جونشان آسمانی مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں وہ ان دونوں قسم کی برکتوں پر مشتمل ہیں۔یہ تو معلوم ہے کہ محمدی برکتیں معارف اور اسرار اور نکات اور کلم جامعہ اور بلاغت اور فصاحت ہے۔سو میری کتابوں میں ان برکات کا نمونہ بہت کچھ موجود ہے، براہین احمدیہ سے لے کر آج تک جس قدر متفرق کتابوں میں اسرار اور نکات دینی خدا تعالیٰ نے میری زبان پر باوجود نہ ہونے کسی استاد کے جاری کئے ہیں اور جس قدر میں نے اپنی عربیت میں باوجود نہ پڑھنے علم ادب کے بلاغت اور فصاحت کا نمونہ دکھایا ہے اس کی نظیر اگر موجود ہے تو کوئی صاحب پیش کریں۔مگر انصاف کی پابندی کے لئے بہتر ہوگا کہ اول تمام میری کتابیں براہین احمدیہ سے لے کر فریاد در دیعنی کتاب البلاغ تک دیکھ لیں۔اور جو کچھ ان میں معارف اور بلاغت کا نمونہ پیش کیا گیا ہے۔اس کو ذہن میں رکھ لیں اور پھر دوسرے لوگوں کی کتابوں کو تلاش کریں۔اور مجھ کو دکھلاویں کہ یہ تمام امور دوسرے لوگوں کی کتابوں میں کہاں اور کس جگہ ہیں اور اگر نہ دکھلا سکیں تو پھر یہ امر ثابت ہے کہ محمدی برکتیں اس زمانہ میں خارق عادت کے طور پر مجھ کو عطا کی گئی ہیں۔جن کے رو سے مہدی موعود ہونا میرا لازم آتا ہے۔کیونکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے بغیر انسانی توسط کہ یہ تمام