اسماء المہدی علیہ السلام — Page 388
اسماء المهدی صفحہ 388 ہیں کہ مہدی بروز کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کا مورد ہوگا۔اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس کا خُلق میرے خُلق کی طرح ہوگا۔اور یہ حدیث کہ لَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِيْسَىٰ ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف کرتی ہے کہ آنے والا ذوالبروزین ہوگا۔اور دونوں شاخیں مہدویت اور مسیحیت کی اس میں جمع ہونگی۔یعنی اس وجہ سے کہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت اثر کرے گی مہدی کہلائے گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مہدی تھے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا۔مگر حضرت عیسی اور حضرت موسی مکتوبوں میں بیٹھے تھے۔غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی استاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی استاد ہوا۔اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اقر کہا یعنی پڑھ۔اور کسی نے نہیں کہا۔اس لئے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی۔اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعے سے بھی ہوئے۔سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا۔سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا۔اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی