اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 375 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 375

اسماء المهدی صفحہ 375 اسلام میں رہیں اور پھر وہ خشک اور مردہ مذہب ہو گیا ؟ اور کیا ایک سچے مذہب کی یہی علامتیں ہونی چاہئیں"۔(روحانی خزائن جلد 6 ، صفحہ 25-19- برکات الدعا) اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے۔اور محدّث بھی ایک معنے سے نبی ہی ہوتا ہے۔گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر تا ہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہوکر آتا ہے۔اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے کرنے والا ایک حد تک مستوجب سز ا ٹھہرتا ہے۔اور نبوت کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے، اس پر مہر لگ چکی ہے۔میں کہتا ہوں کہ نہ مِنْ كُلِّ الْوُجُوهِ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔مگر اس بات کو بحضور دل یا درکھنا چاہئے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا نبوت تامہ نہیں ہے۔بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان