اسماء المہدی علیہ السلام — Page 368
اسماء المهدی صفحہ 368 عاجز کو عطا کئے گئے کہ جب تک خاص عنایت الہی ان کو عطا نہ کرے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتے۔مگر افسوس کہ جیسا قدیم سے نا تمام اور ناقص الفہم علماء کی عادت ہے کہ بعض اسرار اپنے فہم سے بالا تر پاکر منبع اسرار کو کافر ٹھہراتے رہے ہیں، اسی راہ پر اس زمانہ کے بعض مولوی صاحبوں نے بھی قدم مارا۔اور ہر چند نصوص قرآنیہ وحدیثیہ سے سمجھایا گیا مگر ایک ذرہ بھی صدق کی روشنی ان کے دلوں پر نہ پڑی۔بلکہ برعکس اس کے تکفیر اور تکذیب کے بارہ میں وہ جوش دکھلایا کہ نہ صرف کافر کہنے پر کفایت کی بلکہ اکفر نام رکھا۔اور ایک مومن اہل قبلہ کے خلود جہنم پر فتوے لکھے۔اس عاجز نے بار بار خداوند کریم کی قسمیں کھا کر بلکہ مسجد میں جو خانہ خدا ہے بیٹھ کر ان پر ظاہر کیا کہ میں مسلمان ہوں۔اور اللہ جلشانہ اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے فرمودہ پر ایمان لاتا ہوں۔مگر ان بزرگوں نے قبول نہ کیا اور کہا کہ یہ منافقانہ اقرار ہے۔(روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 45۔کرامت الصادقین ) اور منجملہ ان دلائل کے جو نصوص حدیثیہ سے صحت وصدق دعوی اس راقم پر قائم ہوئے ہیں وہ حدیث بھی ہے جو مجد دوں کے ظہور کے بارے میں ابوداؤد اور مستدرک میں موجود ہے۔یعنی یہ کہ اس امت کے لئے ہر ایک صدی کے سر پر مجدد پیدا ہوگا اور ان کی ضرورتوں کے موافق تجدید دین کرے گا اور فقرہ يُجدِّدُ لَهَا جو حدیث میں موجود ہے، یہ صاف بتلا رہا ہے کہ ہر ایک صدی پر ایسا مجدد آئے گا جو مفاسد موجودہ کی تجدید کرے