اسماء المہدی علیہ السلام — Page 369
اسماء المهدی صفحہ 369 گا۔اب جب ایک منصف غور سے دیکھے کہ چودھویں صدی کے سر پر کون سے سخت خطرناک مفاسد موجود تھے جن کی تجدید کے لئے مجدد میں لیاقتیں چاہئیں تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بہت بڑا فتنہ جس سے ؟ لاکھوں انسان ہلاک ہو گئے یا دریوں کا فتنہ ہے۔اور اس سے کوئی عقلمند اور در دخواہ اسلام کا انکار نہیں کرے گا کہ اس صدی کے مجد د کا بڑا فرض یہی ہونا چاہئے کہ وہ کسر صلیب کرے اور عیسائیوں کی حجتوں کو نابود کر دیوے۔اور جبکہ چودھویں صدی کے مجدد کا کسر صلیب فرض ( کام ) ہوا تو اس سے ماننا پڑا کہ وہی مسیح موعود ہے کیونکہ حدیثوں کی رو سے مسیح موعود کی بھی یہی علامت ہے کہ وہ صدی کا مجدد ہوگا اور اس کا کام یہ ہوگا کہ کسر صلیب کرے۔“ فسق و فجور و کثرت گناہ کا سبب ” بہر حال اس وقت کے مولوی اگر دیانت اور دین پر قائم ہو کر سوچیں تو انہیں ضرور اقرار کرنا پڑے گا کہ چودھویں صدی کے مجد د کا کام کسر صلیب ہے۔اور چونکہ یہ وہی کام ہے جو مسیح موعود سے مخصوص ہے اس لئے بالضرورت یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چودھویں صدی کا مجد دمسیح موعود چاہئے اور اگر چہ چودھویں صدی میں فسق و فجور بھی مثل شراب خوری و زنا کاری وغیرہ بہت پھیلے ہوئے ہیں مگر بغور نظر معلوم ہوگا کہ ان سب کا سبب ایسی علیمیں ہیں جن کا یہ مدعا ہے کہ ایک انسان کے خون نے گناہوں کی