اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 297 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 297

اسماء المهدی صفحہ 297 جہاں راہ نہایت درست اور نرم اور سیدھا کیا جاتا ہے اس راہ کو طریق معبد کہتے ہیں۔پس آنحضرت نے اس لئے عبد کہلاتے ہیں کہ خدا نے محض اپنے تصرف اور تعلیم سے ان میں عملی کمال پیدا کیا اور ان کے نفس کو راہ کی طرح اپنی تجلیات کے گذر کے لئے نرم اور سیدھا اور صاف کیا۔اپنے تصرف سے وہ استقامت جو عبودیت کی شرط ہے، ان میں پیدا کی۔پس و علمی حالت کے لحاظ سے مہدی اور عملی کیفیت کے لحاظ سے جو خدا کے عمل سے ان میں پیدا ہوئی ”عبد“ ہیں۔کیونکہ خدا نے ان کی روح پر اپنے ہاتھ سے وہ کام کیا ہے جو کوٹنے اور ہموار کرنے کے آلات سے اس سڑک پر کیا جاتا ہے جس کو صاف اور ہموار بنانا چاہتے ہیں۔چونکہ مہدی موعود کو بھی عبودیت کا مرتبہ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے حاصل ہوا۔اس لئے مہدی موعود میں عبد کے لفظ کی کیفیت غلام کے لفظ سے ظاہر کی گئی یعنی اس کے نام کو غلام احمد کر کے پکارا گیا۔یہ غلام کا لفظ عبودیت کو ظاہر کرتا ہے جو ظلی طور پر مہدی موعود میں بھی ہونی چاہئے۔“ (روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 395-394 حاشیہ۔ایام الصلح ) حضور علیہ السلام کو غلام احمد نام کے علاوہ ”عبد“ بھی کہا گیا ہے جیسا کہ یہ الہام ہے : ” أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَہ۔پس عبد کہہ کر ان تمام اوصاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کا اوپر بیان گزر چکا ہے۔