اسماء المہدی علیہ السلام — Page 296
اسماء المهدی صفحہ 296 أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ“ (روحانی خزائن جلد اول صفحہ 610 حاشیہ نمبر 3 ، براہین احمدیہ ) عبودیت ، رضاء الہی کا انتہائی مقام ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں عباد اللہ میں اس شخص کو شامل فرمایا ہے جو نفس التارہ اور او امہ سے ترقی کر کے مطمئنة تک پہنچا ہوتا ہے۔تب اس کو اللہ تعالیٰ پکار کر کہتا ہے : يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي۔وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر : 31:29)۔پس جب انسان مقام عبودیت حاصل کر لیتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ سے شرف مکالمہ ومخاطبہ حاصل کرتا ہے۔اس نام میں بھی مخالفوں کے الزاموں اور بہتانوں اور تکفیر و توہین کے غلط اور جھوٹے پراپیگنڈہ کی تردید ہے۔اور آپ کی بریت کے لئے تائیدات الہیہ کا ذکر کیا گیا ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ”عبد“ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” ہمارے نبی صلی اللہ کا نام ”عبد“ بھی ہے۔اور اس لئے خدا نے عبد نام رکھا کہ اصل عبودیت کا خضوع اور ذلت ہے۔اور عبودیت کی حالت کا ملہ وہ ہے جس میں کسی قسم کا غلو اور بلندی اور عجب نہ رہے۔اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی تکمیل محض خدا کی طرف سے دیکھے۔اور کوئی ہاتھ درمیان نہ دیکھے۔عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کہتے ہیں مورٌ مُعَبَّدٌ وَ طَرِيْقٌ مُعَبَّدٌ