حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ — Page 4
حضرت اسماء 4 صلى الله ایک دن بہت سے مشرکین مسجد حرام میں بیٹھ کر رسول خدا علی کے خلاف دل کی بھڑاس نکال رہے تھے کہ آپ ملے وہاں تشریف لے آئے۔تمام مشرکین آپ پر جھپٹ پڑے۔حضرت ابو بکر کو معلوم ہوا تو دوڑتے ہوئے مسجد حرام پہنچے اور کفار سے کہا:۔" تمہارا ستیا ناس ہو کہ تم اس آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ اللہ میرا رب ہے اور وہ اپنے رب کی جانب سے واضح دلائل لے کر آیا ہے۔مشرکین نے رسول اکرم ﷺ کو چھوڑ دیا اور حضرت ابو بکٹ پر ٹوٹ پڑے اور اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔جب انہیں اٹھا کر گھر لائے تو زخموں کی وجہ سے ان کی یہ حالت تھی کہ ہم سر پر جہاں بھی ہاتھ لگاتے تھے بال جھڑ جاتے تھے۔“ (2) یہ دور مسلمانوں کے لئے انتہائی کٹھن اور پر آشوب دور تھا۔کفار کے مظالم سے تنگ آکر کچھ مسلمانوں نے ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی۔جس کے نتیجے میں باقی مکہ کے رہنے والے مسلمان اور بھی زیر عتاب آگئے۔چنانچہ تین سال تک مسلمانوں کے ساتھ مکمل سماجی اور معاشی مقاطعہ جاری رہا۔مجبوراً مسلمانوں کو مکہ چھوڑ کر شعب ابی طالب میں پناہ لینی پڑی۔یہ سب مظالم تمام مردوخواتین اور بچوں نے بہت ہمت اور صبر کے ساتھ برداشت کئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بیشترب یعنی مدینہ میں