حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ — Page 3
حضرت اسماء 3 حاصل تھی۔فرشتہ صفت والدہ کے زیر تربیت اُن کے بہت سی خوبیاں ان میں نظر آتی ہیں۔آپ اوائل بعثت میں اُس وقت مسلمان ہوئیں جب صرف سترہ افراد خفیہ طور پر ایمان لا چکے تھے۔اس طرح ایمان لانے والوں میں اُن کا اٹھارواں نمبر تھا۔حضرت اسماء کی شادی حضرت زبیر بن عوام سے ہوئی وہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے اور اُم المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبری کے بھیجے تھے۔حضرت زبیر سولہ برس کی عمر میں ایمان لائے اور اُن کا شمار بھی السابقون الاولون میں ہوتا ہے بلکہ وہ اُن خوش قسمت دس اصحاب میں سے تھے جنہیں جنت کی بشارت دی گئی تھی۔حضرت اسماء کو ایک اور اعزاز بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ علہ ان کے بہنوئی تھے۔(1) بعثت کے چوتھے سال جب حکم الہی کے تحت رسول خدا ﷺ نے اعلامیہ تبلیغ کا آغاز فرمایا تو قریش مکہ سیخ پا ہو گئے اور مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہا کر دی۔کمزور اور غریب الوطن صحابہ کرام تو ان کے مظالم کا خصوصی نشانہ تھے ہی، بہت سے صاحب اثر مسلمان افراد بھی ان کے مظالم سے محفوظ نہ رہ سکے۔ان میں سے بہت سے مظالم حضرت اسماء نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔وہ بیان کرتی ہیں کہ :۔