حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 38
۳۸ کے بھی بالکل سچ ہے۔سالوں مہینوں اور دنوں کے تعینات تو ہمارے لئے ہیں۔انہیں جب اصل واقعات سامنے نظر آگئے تو ان کے لئے بعید کیسے ہو گئے ؟ اسی اعتبار سے قرآن مجید میں جابجا قیامت کو اسی طرح ظاہر فرمایا ہے کہ وہ قریب ہے۔کیونکہ اصلاح عالم کے لئے مصلحت یہی ہے۔پس اس خیال کو مد نظر رکھتے ہوئے مناسب نہیں ہوتا کہ کوئی ولی اللہ قیامت یا کسی ایسے عالمگیر واقعہ کا سن و سال مقرر فرمائے۔گو اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ بعض دفعہ انبیاء و اولیا ء خاص الخاص اشخاص سے اس رازہ الہی کو آشکار فرما دیا کرتے تھے۔مثلاً حضرت انس نے ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ حکم ہو تو میں حاضرین سے) ہر ایک کے بہشتی اور دوزخی ہونے کی بابت ظاہر کروں جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ یہ رانہ الہی اظہارہ کے لائق نہیں گئے رقصیدہ ظہوری مہدی علیہ السلام مع سوانح عمری حضرت شاہ نعمت اللہ ولی صفحه ۲۸-۲۹-۳۰ طبع دوم ، مطبوعہ فیروز پرنٹنگ ورکس بیرون دروازه شیرانوالہ گیٹ لاہور ) جناب مولوی نیرو نہ الدین صاحب نے اس حقیقت پر روشنی ڈالنے