حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 37
وا ہونا ضروری بھی تھا۔اس لئے کہ مذہبی دنیا کی تاریخ میں جتنی صحیح پیش گوئیاں محفوظ ہیں۔ان میں اختفاء اور ابہام کا پہلو ضرور پایا جاتا ہے۔یہی بات شمالی ہند کے عالم دین مولانا فیروز الدین صاحب تاجر کتب لاہور کو کھٹکی جنہوں نے اپنی کتاب " قصیدہ ظہور مہدی“ میں صاف لکھا کہ :- بات یہ ہے کہ کسی خاص حادثہ یا قیامت کے متعلق صیح صحیح اطلاع دے کر وقت مقرر کہہ نا آئین قدرت کے خلاف ہے۔تمام انبیاء و اولیاء قیامت کو ابتدا ہی سے قریب کہتے چلے آئے ہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ شخص اسے قریب سمجھ کہ ظلم و طغیان اور فسق و کفران سے بچنے کی کوشش کرے۔اگر حضرت آدم علیہ السلام ابتدا ہی سے کہہ دیتے کہ آٹھ ہزار برس گزر چکنے کے بعد قیامت آئے گی تو تمام پیغمبروں کی وعید ہے اللہ ہو جاتیں۔ہر شخص سمجھتا کہ وہ زمانہ ابھی بہت بعید ہے۔دیکھا جائے گا۔اب شاید یہاں کوئی یہ خیال پیدا کرے کہ اس بات سے نعوذ باللہ انبیاء علیہم السلام کی تکذیب پائی جاتی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ انبیاء و اولیاء کی نظریں بہت بلند ہوتی ہیں اور وہ تمام واقعات آئندہ کو دیکھ لیتی ہیں جو ان کو بالکل قریب نظر آتے ہیں۔اس لئے اُن کا قریب فرمانا با وجود ہمارے لئے بعید ہونے