اشکوں کے چراغ — Page 353
353 مفہوم سے المجھوں کبھی الفاظ سنبھالوں اظہار کے آشوب میں آواز سنبھالوں صحرائے ملامت سے گزر جاؤں اکیلا الزام کی سوغات بصد ناز سنبھالوں میں خاک نشیں، خاک بسر، خاک بداماں کس طرح ترے قرب کا اعزاز سنبھالوں جاؤں تو کہاں جاؤں ترے ہجر کی رت میں ہنس ہنس کے نہ فرقت کا اگر راز سنبھالوں دریا ہوں مگر اپنے کناروں سے نہ نکلوں جب عشق کروں عشق کے انداز سنبھالوں اپنوں کو بھی اغیار بنا لوں تری خاطر انجام سے گھبراؤں نہ آغاز سنبھالوں جب لفظ ترے فیض سے اک معجزہ بن جائے کیوں لفظ کو اے صاحب اعجاز ! سنبھالوں میں فرطِ محبت سے اگر گاؤں تو مضطر! سُر تال نہ کے ؛ ساز نہ آواز سنبھالوں (۶/جنوری ، ۱۹۸۶ء)