اشکوں کے چراغ — Page 352
352 اتنا بھی برس نہ اپنے اندر اشکوں کو نہ آبشار کر لے تصویر کو دیکھ کر سنبھل جا آئینے کا اعتبار کر لے ہے جرم عظیم اگر محبت یہ جرم بھی میرے یار! کر لے خوشبو کو ہے اختیار مضطر! جو رنگ بھی اختیار کر لے
by Other Authors
352 اتنا بھی برس نہ اپنے اندر اشکوں کو نہ آبشار کر لے تصویر کو دیکھ کر سنبھل جا آئینے کا اعتبار کر لے ہے جرم عظیم اگر محبت یہ جرم بھی میرے یار! کر لے خوشبو کو ہے اختیار مضطر! جو رنگ بھی اختیار کر لے