اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 354 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 354

354 دھوپ میں جو ملنے آیا ہے میرا اپنا ہی سایہ ہے چوٹ لگی ہے میرے دل پر تو کیوں آنسو بھر لایا ہے تیرے دکھ کی خاطر ہم نے دھرتی کا دکھ اپنایا ہے اپنوں کے بھی ناز سہے ہیں غیروں کا بھی غم کھایا ہے یہ جو بانٹ رہا ہوں سب میں تیری یاد کا سرمایہ ہے دھوپ کی شدت ہے سولی تک آگے سایہ ہی سایہ ہے ق چھپ کر دل میں کون آیا ہے کس نے زخم کو سہلایا ہے اپنے آپ سے لڑنے والے! تجھ کو کس نے اکسایا ہے تیرا نام لکھا تھا اس پر ہم نے جو پتھر کھایا ہے پہلا پتھر مارنے والے! کیا تو میرا ہمسایہ ہے؟ ، کیسے جھگڑوں ہمسایہ تو ماں جایا ہے ہمسائے سے خود بھی تڑپے ہو تم مضطر! اوروں کو بھی تڑپایا ہے