اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 337 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 337

337 ہو گیا سنسان کمرہ اس کا چہرہ دیکھ کر ڈر گیا وہ خود بھی آئینوں کو ڈرتا دیکھ کر لکھ رہے ہیں لوگ کیا کیا اس حسینی کی شان میں ہم بھی کچھ لکھیں گے لیکن ناک نقشہ دیکھ کر شاید اس پر نام لکھا ہو اُسی عیار" کا رُک گیا ہوں راہ میں کاغذ کا پرزہ دیکھ کر ریس رہا ہے اس کی دیواروں سے یادوں کا لہو آپ کو تکلیف ہو گی میرا کمرہ دیکھ کر منجمد، سنگلاخ، بے حس میرے اندر کا پہاڑ پانی پانی ہو گیا بادل برستا دیکھ کر رات ہم نے احتیاطاً اپنے مٹی کے حصار اور اونچے کر لیے پانی کو چڑھتا دیکھ کر رات کے عفریت دیواروں کے اندر چھپ گئے شہر زندہ ہو گیا سورج نکلتا دیکھ کر یہ کمالِ قرب تھا یا اپنے منصب کا شعور ایک آمر ریت بھی چلنے لگی دریا کو چلتا دیکھ کر