اشکوں کے چراغ — Page 113
113 یہ آستین کا سانپ، یہ کرسی کا سُوسمار کب سے غریب قوم کی گردن پہ ہے سوار اس کے ڈسے ہوؤں کے نہ کر زخم ہی شمار اے دل! تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار کاخر کنند دعوی حب پیمبرم اٹھے تھے لوگ پہلے بھی کثرت کے نام پر کثرت تھی ان کے زعم میں معیار خیر وشر تنہا تھے آں حضور بھی، اتنا تو غور کر ”اے آنکہ سوئے من بدویدی بصد تبر از باغباں بترس که من شارخ مشمرم مکر تجھ و فریب کا یہ ضرورت کا فلسفہ پر ہے اقتدار کا نشہ چڑھا ہوا نشے میں کیا کسی کو تو رستہ دکھائے گا خواہی کہ روشنت شود احوال صدق ما روشن دلی بخواه ازاں ذات ذوالکرم طاقت سے کرنا چاہتا ہے مجھ کو لاجواب اللہ کی زمین کو اتنا نہ کر خراب قرآں مری کتاب ہے، سنت مرا نصاب من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب ہاں استم و خداوند منذرم