اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 114 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 114

114 ہے کس قدر طویل ترا مجھ سے فاصلہ میں آسماں کا نور، تو کیڑا زمین کا هر آن خیمہ زن ہوں سر دشت کربلا جانم فدا شود بره دین مصطفی این است ت کام دل اگر آید میشرم“ میری زبان بند ہے، میری اذان بند جتنی غلیظ گالیاں اور جس قدر ہے گند پر اچھالنے کو چلے دیں کے دردمند بد گفتنم ز نوع عبادت شمرده اند در چشم شاں پلید تر از هر مزورم کا فیصلہ ہو کہ مُلا کا فکر وفن میرے خلاف ملتِ واحد ہیں مرد و زن تکفیر کی لپیٹ میں ہیں شہر ہوں کہ بن من امروز قوم من نشناسد مقام روزے بگریه یاد کند وقت خوشترم جب تک یہ راز منبر ومحراب کا ہو فاش کرسی پر بیٹھ کر کوئی الزام ہی تراش اللہ کے غضب کو ہے کب سے تری تلاش ے معترض! بخوفِ الہی صبور باش تا خود خدا عیاں کند آں نور اخترم