اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 112 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 112

112 نقد عمل نہ دولتِ ایمان ان کے پاس دن رات ان کا مشغلہ تکفیر و التباس دنیا ہی ان کو راس نہ عقبی ہی ان کو راس ” دل خون شد است از غم این قوم ناشناس واز عالمان حج که گرفتند چنبرم مٹ جائے گی جہان سے تفریق نیک و بد میں ہوں گا اور حاسدوں کی آتش حسد ہو گی مخالفت کی نہایت نہ کوئی حد جائیکه از مسیح و نزولش سخن رود گوییم سخن اگر چه ندارد باورم ملائے بدزبان کی بازی ہوئی ہے مات دل میں ہے اس کے گند، زباں پر مغلظات سورج چڑھا ہوا ہے مگر قوم پر ہے رات یارب! گجاست محرم راز مکاشفات تا نور باطنش خبر آرد ز مخبرم واللہ! میں غلام ہوں احمد کا زر خرید میرے مرید اصل میں احمد کے ہیں مرید ملا کا غم نہیں ہے کہ ملا تو ہے پلید ے حسرت این گروه عزیزاں مرا ندید وقتے به بیندم که ازیں خاک بگذرم