اشکوں کے چراغ — Page 275
275 آئنے کا دل نہ اب چیریں بہت اس میں آسودہ ہیں تصویریں بہت دل کی دیواروں پہ جو لکھی گئیں ہم کو اتنی بھی ہیں تحریریں بہت جو لکھا ہے اس کو دہرایا کرو مت کرو اب اس کی تفسیریں بہت جاؤ گے کس منہ سے ان کے سامنے نیکیاں کم اور تقصیریں تقصیریں بہت اب مجھے پڑھنے کی کوشش بھی کرو پڑھ چکے ہو میری تحریریں بہت آرزو آرزوؤں کی اسیر ہے اس کے پاؤں میں ہیں زنجیریں بہت اک دل ناداں نہ آیا راہ پر ہم نے کیں کرنے کو تسخیریں بہت خوبیاں اُن کی مبارک ہوں انھیں مجھ کو مضطر ! میری تقصیریں بہت