اشکوں کے چراغ — Page 276
276 وہ یہیں آس پاس ہے اب بھی اس سے ملنے کی آس ہے اب بھی ایک آنسو گرا تھا پچھلے سال شہر بھر میں ہراس ہے اب بھی ہے آنسوؤں کی زباں سمجھتا وہ ستارہ شناس ہے اب بھی ہے وہ لہو میں نہا کے نکلا اس کا اجلا لباس ہے اب بھی وہ گئے موسموں کی خوشبو ہے اس کی پھولوں میں باس ہے اب بھی کہیں ننگے بدن نہ جایا کرے گل سے یہ التماس ہے اب بھی تیرا فردوس سے نکالا ہوا آدمی بے لباس ہے اب بھی عقل کو اب بھی ہے گلہ مضطر! دل سراپا سپاس ہے اب بھی