اشکوں کے چراغ — Page 274
274 اشک در اشک سیاحت کی ہے گھومنے پھرنے کی عادت کی ہے بر سر دار محبت کی ہے کہیں تیری حکایت کی ہے تجھ کو سوچا ہے، تجھے چاہا ہے جب بھی کی تجھ سے محبت کی ہے ہم نے اظہار کی راہیں کھولیں ہم نے لفظوں سے سے بغاوت کی ہے پاس آ جاؤ تو سجدہ کر لوں یہ گھڑی یوں بھی عبادت کی ہے منہ نہ کھلواؤ کہ ہم نے مضطر ! اب سے چپ رہنے کی نیت کی ہے