اشکوں کے چراغ — Page 239
239 عرش سے فرش تک ، پھول سے خار تک تو ہی آباد ہے دشت کے پار تک ہم خطا کار تیرے وفادار ہیں تو خفا ہو کے ہم کو نہ اے یار! تک تیری ایک اک ادا ہم کو مرغوب ہے ہم کو محبوب ہے تیرا انکار تک تو نہاں خانہ دل میں بیٹھا رہا لوگ ڈھونڈا کیسے عرش کے پار تک تیری فرقت میں اب حال بے حال ہے میرے دلدار! آ، میرے غمخوار! تک تو جواب اس کا کیا دے گا اے بے خبر ! بات پہنچی اگر میرے دلدار تک شہر جاناں کے حالات کو بھی سمجھ چہرے کو پڑھ ، کوئی اخبار تک اب نہ شکوہ شکایت نه شور طلب سلسلے تھے مضطر زار تک